امام کا چار تکبیروں سے زائد تکبیر کہنا

اگر امام نمازِ جنازہ میں چار سے زائد تکبیر کہے، تو مقتدیوں کو زائد تکبیر میں ان کی اقتدا نہیں کرنا چاہیئے؛ بلکہ ان کو خاموش رہنا چاہیئے اور جب امام  سلام پھیر کر نماز مکمل کرے تو وہ بھی سلام پھیر کر نماز مکمل کریں گے۔ البتہ اگر مقتدیوں کو امام کی زائد تکبیر سنائی نہ دے؛ بلکہ مُکبِّر (یعنی وہ آدمی جو بلند آواز سے تکبیر کہتا ہے؛ تاکہ لوگ سن سکیں) کی زائد تکبیر سنیں، تو مقتدیوں کو چاہیئے کہ زائد تکبیر میں مُکبِّر کی اقتدا کریں، کیوں کہ ان کو یہ نہیں معلوم ہے کہ کون سی تکبیر امام کی تکبیر ہے۔ [۱]

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=16537


 

[۱] (فلو كبر الإمام خمسا لم يتبع) لأنه منسوخ ولا متابعة فيه ولم يبين ماذا يصنع وعن أبي حنيفة روايتان في رواية يسلم للحال ولا ينتظر تحقيقا للمخالفة وفي رواية يمكث حتى يسلم معه إذا سلم ليكون متابعا فيما تجب فيه المتابعة وبه يفتي كذا في الواقعات ورجحه في فتح القدير بأن البقاء في حرمة الصلاة بعد فراغها ليس بخطأ مطلقا إنما الخطأ في المتابعة في الخامسة وفي بعض المواضع إنما لا يتابعه في الزوائد على الأربعة إذا سمع من الإمام أما إذا لم يسمع إلا من المبلغ فيتابعه وهذا حسن وهو قياس ما ذكروه في تكبيرات العيدين اهـ (البحر الرائق ٢/١٩٨)

Check Also

میّت کی تدفین کا طریقہ ‏

میّت کو قبلے کی طرف سے لایا جائے اور قبر میں اِس طرح اُتارا جائے کہ میّت کو اُتارنے والے قبر میں قبلہ کی طرف رُخ کر کے کھڑے ہوں۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اِسی طرح دفن فرماتے تھے...