باغِ محبّت(پہلی قسط)

بسم الله الرحمن الرحيم

اللہ تعالیٰ کی معرفت

اللہ تعالیٰ ہی ساری کائنات کے خالق و رازق ہیں۔ کائنات کی ساری چیزیں زمین و آسمان، سورج، چاند، ستارے اور سیّارے ہر چیز اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔ جو شخص اِن بڑی مخلوقات کی عظمت و بڑائی اور جمال و خوبصورتی پر غور و فکر کرےگا، تو وہ اِن بڑی مخلوقات کے خالق و مالک کی عظمت و کبریائی اور جاہ و جمال کو پہچان لےگا کہ جب اِن مخلوقات کا یہ حال و شان ہیں تو اِن کے خالق کس قدر عظیم الشان اور برتر ہونگے۔

اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم  میں ہمیں اس بات کی دعوت دے رہے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں غور و فکر کر کے اللہ تعالیٰ کی قدرت و عظمت کو پہچانیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ  لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿۱۹۰﴾ۚ الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ  قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۹۱﴾

بلاشبہ آسمانوں اور زمین کے بنانے میں اور یکے بعد دیگرے رات اور دن کے آنے جانے میں دلائل ہیں اہلِ عقل کے لیے، جن کی یہ حالت ہے کہ وہ اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے بھی، بیٹھے بھی لیٹے بھی اور آسمانوں اور زمین کے پیدا ہونے میں غور کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار آپ نے اس کو لایعنی(بیکار) پیدا نہیں کیا۔ ہم آپ کو منزّہ(پاک) سمجھتے ہیں۔ سو ہم کو عذابِ دوزخ سے بچا لیجیے۔

حضرت امام شافعی رحمہ اللہ کے بارے میں منقول ہے کہ ایک دھریہ(خالق کا انکار کرنے والے) نے اُن سے اللہ تعالیٰ کے وجود کی دلیل طلب کی، تو امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کو فی البدیہہ جواب دیا : شہتوت کے پتّے کو دیکھو۔ اُس کا رنگ، مزہ اور بو ایک ہے؛ لیکن اُس کو اگر ریشم کا کیڑا کھا لے، تو ریشم پیدا ہوتا ہے، شہد کی مکھّی کھا لے، تو شہد نکلتا ہے، اونٹ، بکری اور جانور کھا لے، تو مینگنی اور لید نکلتی ہے اور اگر ہرن کھا لے، تو اس سے مشک پیدا ہوتا ہے۔

غور کرو ! چیز ایک ہے، مزاج اور ساخت ایک ہے؛ لیکن اس سے مختلف چیزیں پیدا ہوتی ہیں۔ اگر یہ اللہ پاک کی قدرت نہیں ہے، تو اور کیا ہے۔ (عقائد اور اسلام)

لہذا ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے خالق و مالک اللہ تعالیٰ کو پہچانیں، ان کی قدرت و عظمت اور جلال و جمال پر غور کریں کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے کس قدر محبت فرماتے ہیں کہ وہ ہمیں  گناہوں اور نافرمانیوں کے باوجود شب و روز بے شمار نعمتیں عطا فرما رہے ہیں اور ہمارے اوپر اَن گِنت احسانات کر رہے ہیں۔

ہم سب کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق نصیب فرمائے اور ہمیں فرماں بردار بندے بنائے۔ آمین

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=16279


Check Also

میّت کی تدفین کا طریقہ ‏

میّت کو قبلے کی طرف سے لایا جائے اور قبر میں اِس طرح اُتارا جائے کہ میّت کو اُتارنے والے قبر میں قبلہ کی طرف رُخ کر کے کھڑے ہوں۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اِسی طرح دفن فرماتے تھے...