اذان اور اقامت کی سنتیں اور آداب – ۱۸

اقامت کے کلمات

اقامت کے کلمات اذان کے کلمات کی طرح ہیں۔ ان دونوں کے کلمات میں محض اتنا فرق ہے کہ اقامت میں “حَيَّ عَلٰى الْفَلَاح” کے بعد “قَدْ قَامَتِ الصَّلاَة قَدْ قَامَتِ الصَّلاَة” (نماز کھڑی ہوگئی، نماز کھڑی ہو گئی) کہا جائےگا۔

اقامت کے الفاظ حسب ذیل ہیں:

اَللهُ أَكْبَرْ اَللهُ أَكْبَرْ

اللہ سب سے بڑے ہیں، اللہ سب سے بڑے ہیں۔

اَللهُ أَكْبَرْ اَللهُ أَكْبَرْ

اللہ سب سے بڑے ہیں، اللہ سب سے بڑے ہیں۔

أَشْهَدُ أَلَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهْ أَشْهَدُ أَلَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهْ

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهْ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللهْ

میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ۔

حَيَّ عَلَى الصَّلَاةْ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةْ

نماز کے لیے آؤ، نماز کے لیے آؤ

حَيَّ عَلَى الْفَلَاحْ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحْ

کامیابی کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ

قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةْ قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةْ

نماز کھڑی ہوگئی، نماز کھڑی ہو گئی

اَللهُ أَكْبَرْ اَللهُ أَكْبَرْ

اللہ سب سے بڑے ہیں، اللہ سب سے بڑے ہیں۔

لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهْ

اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔

نوٹ:- ’’حَيَّ عَلَى الصَّلاَهْ‘‘ اور ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلاَهْ‘‘ میں لفظ الصَّلَاةْ کی ’’ة‘‘(تاء) کو ساکن (ــْـ) پڑھا جائےگا اور اس کا تلفظ هـ (ہاء)کے ساتھ کیا جائےگا یعنی  دونوں جملوں میں ’’الصَّلاَهْ‘‘ کہا جائے گا ’’الصَّلَاة‘‘ (تاء کے ساتھ) نہیں کہا جائےگا۔ اسی طرح اقامت میں ’’حَيَّ عَلَى الصَّلاَةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحْ‘‘ اور ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلاَةُ قَدْ قَامَتِ الصَّلاَهْ‘‘ نہیں کہنا چاہیئے؛ بلکہ ’’حَيَّ عَلَى الصَّلاَهْ ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحْ‘‘ اور ’’قَدْ قَامَتِ الصَّلاَهْ ، قَدْ قَامَتِ الصَّلاَهْ‘‘ کہنا چاہیئے۔ [۱]

 

Source: https://ihyaauddeen.co.za/?p=7599


[۱] ويسكن كلماتهما على الوقف لكن في الأذان حقيقة وفي الإقامة ينوي الوقف كذا في التبيين (الفتاوى الهندية ۱/ ۵٦)

(سن الأذان) فليس بواجب على الأصح لعدم تعليمه الأعرابي (و) كذا (الإقامة سنة مؤكدة) … ويجزم الراء في التكبير ويسكن كلمات الأذان والإقامة في الأذان حقيقة وينوي الوقف في الإقامة لقوله صلى الله عليه و سلم  الأذان جزم والإقامة جزم والتكبير جزم أي لافتتاح الصلاة قال الطحطاوي قوله (ويسكن كلمات الأذان) يعني للوقف والأولى ذكره قوله (في الأذان حقيقة) أي الوقف الذي لأجله السكون حقيقة في الأذان لأجل الترسل فيه قوله (وينوي الوقف في الإقامة) لأنه لم يقف حقيقة لأن المطلوب فيها الحدر أفاده في الشرح قوله (لقوله صلى الله عليه وسلم) علة لقوله ويسكن الخ ويأتي بالشهادتين كل واحدة مرتين يفصل بينهما بسكتة وهكذا الخ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح صـ ۱۹۵)

Check Also

مسجد کی سنتیں اور آداب – ۹

حضرت عمر و بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجدیں زمین پر اللہ تعالیٰ کے مکانات ہیں اور میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“۔۔۔