اذان اور اقامت کی سنتیں اور آداب – ۱٦

اذان کے بعد کی دعا :

(۱) اذان کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجیں پھر مندرجہ ذیل دعا پڑھیں [۱]:

اللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيْلَةَ وَالْفَضِيلَةَ وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِيْ وَعَدْتَّهُ إِنَّكَ لَاتُخْلِفُ الْمِيْعَاد

“اے اللہ ! اس مکمل دعا اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ (جنت میں ایک بلند مرتبہ)، فضیلۃ (خاص رحمتیں) اور مقامِ  محمود (قیامت کے دن شفاعت کبریٰ کا مقام) عنایت فرمائیے، جس کا آپ نے ان سے وعدہ کیا ہے۔ بے شک آپ وعدہ خلافی نہیں کرتے ہیں۔”

عن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما يقول ثم صلوا علي فإنه من صلى علي صلاة صلى الله عليه بها عشرا ثم سلوا الله لي الوسيلة فإنها منزلة في الجنة لا تنبغي إلا لعبد من عباد الله وأرجو أن أكون أنا هو فمن سأل لي الوسيلة حلت له الشفاعة (صحيح مسلم رقم ٣٨٤)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم مؤذن (کی اذان) سنو، تو اس کے کلمات اذان کو دہراؤ اور (اذان کے بعد) مجھ پر درود بھیجو(یعنی اذان کی دعا پڑھنے سے پہلے درود بھیجو)، کیوں کہ جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتے ہیں۔ پھر(اذان کی دعا پڑھو جس میں تم) اللہ تعالیٰ سے میرے لیے “وسیلہ” کی دعا کرو۔ بے شک یہ (وسیلہ) جنت میں ایک بلند مرتبہ ہے، جو اللہ تعالیٰ کی صرف ایک مخصوص بندے کو ملےگا۔ میری آرزو ہے کہ وہ مقام مجھے ملے۔ لہذا جو شخص میرے لیے (وسیلہ) کی دعا کرےگا، اس کو میری شفاعت حاصل ہوگی۔ (صحیح مسلم )

عن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قال حين يسمع النداء اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته حلت له شفاعتي يوم القيامة (صحيح البخاري رقم ٦١٤) (وأما زيادة إنك لا تخلف الميعاد فقد ذكرها البيهقي فى السنن الكبرى ١/٤١٠)

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص اذان سن کر یہ دعا پڑھے

اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته(إِنَّكَ لَاتُخْلِفُ الْمِيْعَاد)

پڑھےگا، وہ قیامت کے دن میری شفاعت کا حق دار ہوگا۔

(۲) جب اذان پوری ہو جائے تو پہلے اذان کی دعا پڑھے اس کے بعد مندرجہ ذیل دعا پڑھیں:

أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ رَضِيْتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا وَبِالْإِسْلَامِ دِيْنًا

میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سواکوئی معبود نہیں ہے۔ وہ تنہا ہیں۔ ان کا کوئی شریک نہیں ہے اور (میں گواہی دیتا ہوں کہ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں میں اللہ تعالیٰ سے رب ہونے میں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے رسول ہونے میں راضی ہوں اور اسلام سے دین ہونے میں راضی ہوں۔

نوٹ:- یہ دعا اذان کے بعد پڑھنی چاہیئے اور دورانِ اذان بھی پڑھنی چاہیئے یعنی جب مؤذن شہادتین (أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ،أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهُ) کہے تو آپ یہ دعا پڑھے۔

عن سعد بن أبي وقاص عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال : من قال حين يسمع المؤذن أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله رضيت بالله ربا وبمحمد رسولا وبالإسلام دينا غفر له ذنبه (صحيح مسلم رقم ۳۸٦)

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “جو شخص اذان کے وقت:

أَشْهَدُ أَنْ لَّا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ رَضِيْتُ بِاللهِ رَبًّا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلاً وَبِالْإِسْلَامِ دِيْنًا

پڑھے گا، اس کے (صغیرہ) گناہ معاف ہو جائیں گے۔” (صحیح مسلم )

(۳) اذان  کے بعد مندرجہ ذیل دعائیں بھی پڑھ سکتے ہیں:

اللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَأَعْطِهِ سُؤْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ[۲]

اے اللہ ! اے اس مکمل دعا اور قائم ہونے والی نماز کے رب ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل فرما(اپنی رحمت نازل فرما) اور قیامت کے دن ان کو ان کا مقصود عطا فرما۔

اللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ صَلِّ عَلٰى عَبْدِكَ وَرَسُوْلِكَ وَاجْعَلْنَا فِيْ شَفَاعَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ[۳]

اے اللہ ! اے اس مکمل دعا اور قائم ہونے والی نماز کے رب ! اپنے بندے اور رسول صلی اللہ علیہ و سلم پر درود نازل فرما (اپنی رحمت نازل فرما) اور ہمیں ان لوگوں میں سے بنا، جنہیں قیامت کے دن ان کی شفاعت حاصل ہوگی۔

اللّٰهُمَّ رَبَّ هٰذِهِ الدَّعْوَةِ الْقَائِمَةِ وَالصَّلاةِ النَّافِعَةِ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَارْضَ عَنِّيْ رِضَاءً لَا سَخَطَ بَعْدَهُ[٤]

اے اللہ ! اے اس مکمل دعا اور نفع پہچانے والی نماز کے رب ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود (اپنی رحمت نازل فرما) بھیجیے، اور مجھ سے اس طرح راضی ہو جایئے کہ اس (راضی ہونے) کے بعد آپ کبھی ناراض نہ ہوں۔

حدیث شریف میں وارد ہے کہ اس(آخری) دعا کے پڑھنے کے بعد دعائیں قبول ہوتی ہیں ۔

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?cat=379


[۱] ويدعو عند فراغه بالوسيلة لرسول لله صلى الله عليه وسلم

قال الشامي : قوله ( ويدعو إلخ ) أي بعد أن يصلي على النبي لما رواه مسلم وغيره إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما يقول ثم صلوا علي فإنه من صلى علي صلاة صلى الله عليه بها عشر ثم سلوا لي الوسيلة فإنها منزلة في الجنة لا تنبغي إلا لعبد مؤمن من عباد الله وأرجو أن أكون أنا هو فمن سأل الله لي الوسيلة حلت له الشفاعة وروى البخاري وغيره من قال حين يسمع النداء اللهم رب هذه لدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذي وعدته حلت له شفاعتي يوم القيامة وزاد البيهقي في آخره إنك لا تخلف الميعاد وتمامه في الإمداد والفتح قال ابن حجر في شرح المنهاج وزيادة والدرجة الرفيعة وختمه بيا أرحم الراحمين لا أصل لهما اهـ (رد المحتار ۱/۳۹۸)

[۲] عن أبي الدرداء أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يقول إذا سمع المؤذن: اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة صل على محمد وأعطه سؤله يوم القيامة وكان يسمعها من حوله ويحب أن يقولوا مثل ذلك إذا سمعوا المؤذن قال ومن قال مثل ذلك إذا سمع المؤذن وجبت له شفاعة محمد صلى الله عليه وسلم يوم القيامة رواه الطبراني في الكبير، وفيه صدقة بن عبد الله السمين ضعفه أحمد والبخاري ومسلم وغيرهم، ووثقه دحيم وأبو حاتم وأحمد بن صالح المصري (مجمع الزوائد رقم ۱۸۷۸)

[۳] عن أبي الدرداء قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا سمع النداء قال اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة صل على عبدك ورسولك واجعلنا في شفاعته يوم القيامة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من قال هذا عند النداء جعله الله في شفاعتي يوم القيامة رواه الطبراني في الأوسط وفيه صدقة المذكور قبل هذا الحديث (مجمع الزوائد رقم ۱۸۷۹)

[٤] عن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من قال حين ينادي المنادي اللهم رب هذه الدعوة القائمة والصلاة النافعة صل على محمد وارض عني رضاء لا سخط بعده استجاب الله له دعوته رواه أحمد والطبراني في الأوسط، وفيه ابن لهيعة وفيه ضعف (مجمع الزوائد رقم ۱۸۷۵)

Check Also

مسجد کی سنتیں اور آداب – ۹

حضرت عمر و بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجدیں زمین پر اللہ تعالیٰ کے مکانات ہیں اور میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“۔۔۔