ماہِ رمضان کے سنن و آداب- ۱

(۱) رمضان سے پہلے ہی رمضان کی تیاری شروع کر دیں۔ بعض بزرگانِ دین رمضان کی تیاری رمضان سے چھ ماہ قبل شروع فرما دیتے تھے۔

(۲) رمضان کی برکتوں اور رحمتوں سے پورے طور پر مستفید ہونے کے لیے آدمی کو نظام الاوقات(یعنی ٹائم ٹیبل ) بنانا چاہیئے۔

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال من صام رمضان وعرف حدوده وتحفظ مما ينبغي له أن يتحفظ كفر ما قبله  رواه ابن حبان في صحيحه والبيهقي (الترغيب و الترهيب رقم ۱٤۷٤)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص نے رمضان المبارک کا روزہ رکھا اور اس کے حدود کو پہچانا(رمضان المبارک کے حدود اور احکام اور آداب کی رعایت کی) اور جن جن چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے، ان سب سے اجتناب کیا، تو اس کے تمام پچھلے(صغائر) گناہ کو مٹادئے جائیں گے۔ (ترغیب و ترہیب)

(۳) اگر کسی کے ذمہ حقوق اللہ یا حقوق العباد کی ادائیگی باقی ہو(حقوق اللہ جیسے قضا نمازیں، قضا روزے اور صدقات واجبہ وغیرہ اور حقوق العباد جیسے کسی پر ظلم کیا ہو یا کسی کو تکلیف پہونچائی ہو یا کسی کے قرض یا دین اس کے ذمہ ہو)، تو ماہِ رمضان کی آمد سے قبل ان تمام معاملات کو پورا کر لے اور ہر ایک کا حق ادا کر لے۔ کسی پرظلم کیا ہو یا کسی کو تکلیف پہونچائی ہو، تو ان سے معافی طلب کرے؛ تاکہ رمضان المبارک کی برکتیں پورے طور پر حاصل کر سکے۔

(۴) رمضان سے پہلے اپنی نفل عبادت میں اضافہ کریں اور عبادت کا معمول بنائیں؛ تاکہ رمضان المبارک میں آپ زیادہ سے زیادہ عبادت کر سکیں۔

(۵) رمضان المبارک سے قبل خوب استغفار کریں اور دعائیں بھی کریں۔

(۶) جب ماہِ رجب شروع ہو جائے، تو مندرجہ ذیل دعا مانگیں:

اَللّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيْ رَجَبٍ وَّ شَعْبَان وَبَلِّغْنَا رَمَضَان

اے اللہ! ہمارے لیے ماہِ رجب اور شعبان میں برکت پیدا فرما اور ہمیں ماہِ رمضان تک پہونچا۔

عن أنسٍ رضي الله عنه قال كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَ سَلَّمَ إذَا دَخَلَ رَجَبٌ قَالَ اَللّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيْ رَجَبٍ وَّشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَان  (شعب الايمان رقم ۳۸۱۵)

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رجب شروع ہوتا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے: ” اَللّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيْ رَجَبٍ وَّشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَان”

(۷) رمضان شروع ہونے کے بعد اور رمضان کے دوران مندرجہ ذیل دعا مانگیں:

اَللّهُمَّ سَلِّمْنِيْ لِرَمَضَان وَ سَلِّمْ رَمَضَانَ لِيْ وَسَلِّمْهُ لِيْ مُتَقَبَّلًا

الہٰی! ماہِ رمضان کے لیے مجھے سلامت رکھئے اور ماہِ رمضان کو میرے لیے سلامت رکھئے اور اس کو میری طرف سے قبول فرمائیے۔

عن عبادة بن الصامت قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا هؤلاء الكلمات إذا جاء رمضان اللهم سلمني لرمضان وسلم رمضان لي وسلمه لي متقبلا. رواه الطبرناني في الدعاء والديلمي وسنده حسن. (كنز العمال رقم ۲٤۲۷۷)

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب ماہِ رمضان آتا، تو رسول اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ کلمات سکھاتے :اللهم سلمني لرمضان وسلم رمضان لي وسلمه لي متقبلا

(۸) ماہِ رمضان میں نفل کا ثواب فرض کے برابر ہو جاتا ہے اور فرض کا ثواب ستر گنا بڑھ جاتا ہے؛ لہذا ماہِ رمضان میں زیادہ سے زیادہ نوافل کا اہتمام کریں اور فرائض سے بالکل غفلت نہ برتیں۔

عن سلمان رضي الله عنه قال خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في آخر يوم من شعبان…  من تقرب فيه بخصلة من الخير كان كمن أدى فريضة فيما سواه ومن أدى فريضة فيه كان كمن أدى سبعين فريضة فيما سواه (الترغيب و الترهيب رقم ۱٤۸۳)

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخری دن ہمارے سامنے خطبہ دیا۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ) جو شخص اس ماہ میں کوئی اچھا کام(نفل) کر کے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے، تو اس کو ماہِ رمضان کے علاوہ میں فرض ادا کرنے والے کے برابر ثواب ملتا ہے اور جو اس ماہ میں ایک فرض ادا کرتا ہے، تو اس کو اس شخص کے برابر ثواب ملتا ہے، جو دیگر مہینوں میں ستر فرائض ادا کرتا ہے۔ (ترغیب ترہیب )

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=6546


Check Also

مسجد کی سنتیں اور آداب – ۹

حضرت عمر و بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجدیں زمین پر اللہ تعالیٰ کے مکانات ہیں اور میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“۔۔۔