اذان اور اقامت کی سنتیں اور آداب-۲

اذان و اقامت کی سنتیں اور آداب

اذان، دینِ اسلام کا ایک عظیم اور نمایاں شعار ہے۔ اسلام میں اذان دینے والوں کو انتہائی ارفع و اعلیٰ مقام عطا کیا گیا ہے۔ قیامت کے دن جب لوگ مؤذنین کے عظیم مقام اور مرتبہ کو دیکھیں گے، تو رشک کریں گے۔ متعدد احادیث میں مؤذنین کے فضائل اور ان کے عظیم الشان اجر و ثواب کا ذکر آیا ہے۔

مؤذن کے فضائل

  • قیامت کے دن مؤذن کا مقام۔

عن معاوية رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: المؤذنون أطول الناس أعناقا يوم القيامة (صحيح مسلم رقم ۳۸۷)

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن مؤذنین کی گردنیں سب سے لمبی ہوں گی۔

اس حدیث میں “أطول الناس أعناقا” سے لغوی معنی مراد نہیں ہے؛ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ مؤذنین قیامت کے دن انتہائی عظیم الشان مقام اور مرتبہ کے حامل ہوں گے۔

  • اسلام میں سب سے پہلے مؤذن حضرت بلال رضی اللہ عنہ تھے۔ ان کی یہ خصوصی فضیلت ہے۔ دوسری فضیلت یہ ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن تھے۔

عن عبد الله بن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ثلاثة على كثبان المسك أراه قال يوم القيامة يغبطهم الأولون والآخرون رجل ينادي بالصلوات الخمس في كل يوم وليلة ورجل يؤم قوما وهم به راضون وعبد أدى حق الله وحق مواليه (سنن الترمذي رقم ٢٥٦٦) [۱]

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تین لوگ(قیامت کے دن) مشک کے ٹیلوں پر ہوں گے اگلے اور پچھلے لوگ ان کو دیکھ کر رشک کریں گے۔ ان تین لوگوں میں ایک وہ شخص ہے جو ہر رات و دن میں پانچوں نمازوں کے لیے اذان دیتا ہے۔ دوسرا وہ شخص ہے جو ایسے لوگوں کی امامت کرتا ہے جو اس سے راضی ہیں(کیونکہ وہ نماز کو صحیح طریقہ پر پڑھا کرتا ہے)۔ اور تیسرا وہ غلام ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ اور اپنے آقاؤں کے حقوق ادا کرتا ہے۔

 

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?cat=379


 

[۱] قال أبو عيسى هذا حديث حسن غريب

قال المنذري في الترغيب والترهيب (رقم ۳۷٤): رواه أحمد والترمذي من رواية سفيان عن أبي اليقظان عن زاذان عنه وقال حديث حسن غريب قال الحافظ وأبو اليقظان واه وقد روى عنه الثقات واسمه عثمان بن قيس قاله الترمذي وقيل عثمان بن عمير وقيل عثمان بن أبي حميد وقيل غير ذلك ورواه الطبراني في الأوسط والصغير بإسناد لا بأس به ولفظه (رقم ۳۷۵) قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة لا يهولهم الفزع الأكبر ولا ينالهم الحساب هم على كثب من مسك حتى يفرغ من حساب الخلائق رجل قرأ القرآن ابتغاء وجه الله وأم به قوما وهم به راضون وداع يدعو إلى الصلاة ابتغاء وجه الله وعبد أحسن فيما بينه وبين ربه وفيما بينه وبين مواليه ورواه في الكبير ولفظه (رقم ۳۷٦) عن ابن عمر رضي الله عنهما قال لو لم أسمعه من رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا مرة ومرة ومرة حتى عد سبع مرات لما حدثت به سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ثلاثة على كثبان المسك يوم القيامة لا يهولهم الفزع ولا يفزعون حين يفزع الناس رجل علم القرآن فقام به يطلب به وجه الله وما عنده ورجل نادى في كل يوم وليلة خمس صلوات يطلب وجه الله وما عنده ومملوك لم يمنعه رق الدنيا من طاعة ربه

Check Also

مسجد کی سنتیں اور آداب – ۹

حضرت عمر و بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجدیں زمین پر اللہ تعالیٰ کے مکانات ہیں اور میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“۔۔۔