امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ذمہ داری – چوتھی قسط

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ کس کی ذمہ داری ہے؟

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر دین کا ایک اہم فریضہ ہے۔ یہ فریضہ امّت کے ہر فرد کے ذمہ پر ہے، البتہ ہر فرد اس فریضہ کو اپنے علم اور استطاعت کے مطابق انجام دےگا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے جو شخص کوئی برائی دیکھے، تو اس کو چاہیئے کہ وہ اپنے ہاتھ سے اس کو روکے اور اگر وہ اپنے ہاتھ سے نہیں روک سکتا ہے، تو وہ اپنی زبان سے اس کو روکے اور اگر وہ اپنی زبان سے نہیں روک سکتا ہے، تو پھر وہ اپنے دل میں اس برائی کو برا سمجھے اور یہ (دل میں برائی کو برا سمجھنا) ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔ (مسلم شریف)

علمائے کرام نے بیان کیا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا پہلا درجہ (برائی کو ہاتھ سے روکنا) ان لوگوں کے لئے ہے، جن کو برائی کے روکنے پر قدرت ہے، جیسے اسلامی ملک کے حاکم اور ان کے معاونین۔

اسی طرح ہر گھرانے کے ذمہ دار (مثلا باپ) کو چاہیئے کہ وہ اپنے گھر والوں (اولاد) کو برائی سے روکے، اگر وہ اس کی بات نہ مانے، تو وہ اپنے ہاتھ سے ان کو برائی سے روک لے، چونکہ باپ عملی طور پر اپنے گھر والوں کو برائی سے روکنے پر قادر ہے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا دوسرا درجہ (برائی کو زبان سے روکنا) علمائے کرام کے لئے ہے۔ جب علمائے کرام لوگوں میں کوئی برائی دیکھیں، تو ان کو چاہیئے کہ وہ اپنی زبان سے لوگوں کی اصلاح کریں اور ان کو برائی سے روک لیں؛ کیونکہ وہ برائی کو اپنی زبان سے روکنے پر قادر ہیں۔

اسی طرح عوام الناس میں سے جو لوگ علم رکھتے ہیں، اگر وہ لوگوں میں کوئی برائی دیکھیں، تو وہ بھی اپنی زبان سے لوگوں کی اصلاح کریں اور ان کو برائی سے روک لیں۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا تیسرا درجہ (برائی کو دل میں برا سمجھنا) ان لوگوں کے لئے ہے جو برائی کو روکنے پر قدرت نہیں رکھتے ہیں، مثلا اگر کوئی شخص کسی ایسی جگہ میں ہے جہاں کوئی برائی کا کام ہو رہا ہے اور وہ اس برائی کے روکنے پر قدرت نہیں رکھتا ہے، تو اس کو چاہیئے کہ وہ فورا اس جگہ سے نکل جائے؛ کیونکہ اس جگہ سے اس کا نکل جانا ایک طرح کا انکار ہے۔

البتہ اگر وہ کسی وجہ سے اس جگہ سے نہیں نکل سکتا ہے (مثلاً اگر وہ ہوائی جہاز میں بیٹھا ہوا ہو اور وہاں گانا بج رہا ہو)، تو ایسی صورت میں وہ اپنے دل میں اس برائی کو ناپسند کرے اور وہ گناہ کو گناہ سمجھے۔ یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے کہ انسان اپنے دل میں گناہ سے نفرت کرے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ علماء اور عوام الناس کی ذمہ داری ہے

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ امّت کے ہر فرد کے ذمہ میں ہے خواہ وہ علماء ہوں یا عوام الناس ہوں۔

شریعت میں جو باتیں اور جو مسائل بالکل واضح اور آسان ہیں اور سب جانتے ہیں (مثلاً حلال حرام، نماز اور روزہ کی فرضیت، شراب اور خنزیر کے گوشت کی حرمت وغیرہ) ان چیزوں کے بارے میں عوام الناس لوگوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کر سکتے ہیں۔

رہا دین کے وہ مسائل جو پیچیدہ اور مشکل ہیں اور ان کو عوام الناس آسانی سے نہیں سمجھ سکتے ہیں، تو ان چیزوں کے بارے میں عوام الناس کو چاہیئے کہ وہ لوگوں کی اصلاح نہ کریں؛ بلکہ وہ ان مسائل کو علماء کے حوالے کر دیں؛ تاکہ علماء ان چیزوں کے بارے میں لوگوں کی اصلاح کریں اور ان میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کریں۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فرض عین اور فرض کفایہ ہونا

بعض صورتوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض عین ہوتا ہے اور بعض صورتوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض کفایہ ہوتا ہے۔

قرآن کریم میں ان دونوں قسموں کا ذکر آیا ہے۔

فرض عین کا مطلب یہ ہے کہ ہر فرد کے ذمہ اس حکم کا پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اگر وہ اس حکم کو پورا نہ کرے، تو وہ گنہگار ہوگا (جیسے کہ پانچ وقت کی نماز پڑھنا، رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنا وغیرہ)۔

فرض کفایہ کا مطلب یہ ہے کہ تمام لوگوں کے ذمہ مجموعی طور پر اس حکم کا پورا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ البتہ اگر امّت کے بعض افراد اس حکم کو پورا کریں، تو تمام لوگ بَری ہوں گے اور اگر تمام لوگوں میں سے کوئی اس حکم کو پورا نہ کرے، تو تمام لوگ گنہگار ہوں گے (جیسے کہ میّت کی جنازہ نماز پڑھںا اور اس کا کفن دفن کرنا وغیرہ)۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کس صورت میں فرض عین ہے؟

ہر شخص پر فرض عین ہے کہ وہ دین کے راستہ پر چلے اور وہ اپنے گھر والوں کے لئے بھی فکر کرے، اسی طرح اس کو چاہیئے کہ وہ اپنے گھروالوں کی اصلاح اور دینی ترقّی کے لئے محنت اور کوشش کرے، نیز اپنے گھر والوں پر  یہ محنت اور کوشش کرنا اس پر فرض عین ہے۔

لہذا ہر شخص کو چاہیئے کہ وہ اپنے گھر والوں کو اللہ تعالیٰ کے احکام پورا کرنے کی ترغیب دیتا رہے (مثلا نماز پڑھنا، سنّت کی اتّباع کرنا، نیک لوگوں کی صحبت میں رہنا وغیرہ) اور ان کو گناہوں سے روکتا رہے۔

اگر کسی وقت وہ اپنے گھر والوں کو کسی برائی یا گناہ میں مبتلا ہوتے ہوئے دیکھے، تو اس کو چاہیئے کہ وہ ان کو روکے اور ان کی اصلاح کرے۔

اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

 يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا (سورة التحريم: ٦)

اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔

اس آیت کریمہ سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے گھر والوں کو برائی اور گناہ سے نہ روکے اور ان کی دینی رہبری نہ کرے، تو قیامت کے دن ان کے بارے میں اس سے پوچھا جائےگا اور اس کی باز پرس ہوگی۔

ایک حدیث شریف میں وارد ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم میں سے ہر ایک چرواہا ہے اور اس سے اس کے ریوڑ کے متعلق سوال ہوگا۔ امام چرواہا ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں کے بارے میں سوال ہوگا۔ انسان اپنے گھر والوں کا چرواہا ہے اور اس سے اس کے گھر والوں کے بارے میں سوال ہوگا۔ عورت اپنے شوہر کے گھر کی چرواہی ہے اور اس سے اس کی رعیّت کے بارے میں سوال ہوگا۔ (صحیح البخاری)

اس حدیث سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح شوہر اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اور ان کے بارے میں اس سے سوال ہوگا اسی طرح بیوی اپنے بچوّں کی ذمہ دار ہے اور ان کے بارے میں اس سے بھی سوال ہوگا۔

ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبد الله بن عمر رضی الله عنہما نے ایک آدمی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ تم اپنے بیٹے کو ادب سکھاؤ؛ کیونکہ تم سے تمہارے بیٹے (کی تربیت) کے بارے میں سوال ہوگا کہ تم نے اس کو کیا ادب سکھایا اور اس کو کیا تعلیم دی؟ اور اس سے (تمہارے بیٹے سے) بھی سوال ہوگا کہ کیا اس نے تمہارے ساتھ حسن سلوک کیا اور تمہاری اطاعت وفرماں برداری کی؟ (ان چیزوں کے بارے میں اس سے پوچھا جائےگا)۔ (شعب الایمان)

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کس صورت میں فرض کفایہ ہے؟

عام حالات میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ پوری امّت کے ذمہ مجموعی طور پر فرض کفایہ ہے یعنی امت کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کی دینی ترقی اور اصلاح کے بارے میں فکر کرے۔

اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا:

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّٰه (سورة آل عمران: ١١٠)

تم سب سے بہترین امّت ہو جو لوگوں (کے فائدے) کے لئے بھیجے گئے ہیں، (تم اس وجہ سے بہترین ہو کہ) تم نیک کاموں کا حکم دیتے ہو اور برے کاموں سے روکتے ہو اور تم اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو۔

اس آیت کریمہ سے ہمیں معلوم ہوا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پوری امّت کے ذمہ مجموعی طور پر فرض کفایہ ہے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر انجام دینے پر بے پناہ اجر وثواب

حضرت مجدّد الف ثانی رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص علم دین کی نشر واشاعت میں ایک روپیہ بھی خرچ کرے، تو اس کا ثواب اتنا زیادہ ہے کہ وہ کروڑ روپیہ خیرات میں خرچ کرنے کے برابر ہے۔

نیز دین میں سب سے بڑی نیکی دین کی نشر واشاعت کرنا اور شریعت کے کسی حکم کا زندہ کرنا ہے خصوصا ایسے زمانہ میں دین کی نشر واشاعت کرنا بڑی نیکی ہے؛ جب کہ شعائر اسلام مٹائے جا رہے ہوں۔

اگر کوئی شخص اس وقت دین کے ایک مسئلہ کو رواج دے اور اس کی تبلیغ کرے، تو اس کا یہ عمل کروڑ روپیہ راہ خدا میں خرچ کرنے سے افضل واعلیٰ ہے۔ (مجالس ابرار، احکام تبلیغ کیا ہیں؟ ص ۳۵)

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=19015


Check Also

باغِ محبّت (اکتیسویں قسط)

مسلمانوں کی دینی ترقّی اور اصلاح کی فکر- ایک عظیم سنّت حضرت اقدس شاہ ولی …