قرآن مجید کی سنتیں اور آداب – ۳

قرآن مجید کی تلاوت کی سنتیں اور آداب

(۱) قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے پہلے اس بات کا اہتمام کریں کہ آپ کا منھ صاف ہو۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بےشک تمہارے منھ قرآن مجید کے لئے راستے ہیں (یعنی قرآن مجید کی تلاوت منھ سے کی جاتی ہے)؛ لہذا اپنے منھ کو مسواک سے صاف کیا کرو۔

(۲) قرآن مجید کو انتہائی ادب واحترام کے ساتھ پکڑیں اور اس کو تعظیم کے ساتھ ہمیشہ اونچی جگہ پر رکھیں۔ قرآن مجید کو زمین پر نہ رکھیں یا کسی ایسی جگہ پر نہ رکھیں جو بے ادبی کا باعث ہو۔

(۳) قرآن مجید کے اوپر کوئی چیز نہ رکھیں؛ یہاں تک کہ دینی کتاب بھی قرآن مجید پر نہ رکھیں۔

(۴) قرآن مجید کو بغیر وضو کے مت چھوئیں۔ قرآن مجید کو بغیر وضو کے چھونا جائز نہیں ہے۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قرآن مجید کو صرف وہ شخص چھوئے جو باوضو ہو۔

(۵) مستحب یہ ہے کہ قرآن مجید پڑھنے والا قرآن مجید کی تلاوت کے وقت باوضو ہو، اس کے کپڑے صاف ہوں اور اس کا رخ قبلے کی طرف ہو؛ لیکن قرآن مجید کی تلاوت کے وقت اگر قرآن مجید پڑھںے والا قبلے کی طرف رخ نہ کرے یا وہ باوضو نہ ہو، تو کوئی حرج نہیں ہے؛ بشرطیکہ وہ قرآن مجید کو ہاتھ سے نہ چھوئے۔

(۶) موبائل میں دیکھ کر بے وضو قرآن مجید پڑھنا جائز ہے۔ البتہ اسکرین کے اس حصہ کو نہ چھوئیں، جہاں قرآن مجید کی آیتیں ہوں۔

نوٹ: یہ بات ذہن میں رہنی چاہیئے کہ موبائل میں دیکھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنا اگر چہ جائز ہے، مگر قران مجید ہی سے تلاوت کرنا بہتر ہے؛ کیونکہ اس میں قرآن مجید کا زیادہ ادب واحترام ہے اور یہ قرآں مجید پڑھنے کا اصل طریقہ ہے۔

اس کے بر عکس موبائل میں دیکھ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنا پسندیدہ نہیں ہے؛ کیونکہ بہت سی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ موبائل میں جاندار چیزوں کی تصویریں ہوتی ہیں، نیز موبائل کے ذریعہ بہت سے گناہوں کا ارتکاب بھی کیا جاتا ہے؛ لہذا یہ قرآن مجید کی بے حرمتی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لئے بہتر یہ ہے کہ قرآن مجید موبائل میں دیکھ کر نہ پڑھا جائے۔ چنانچہ قرآں مجید کے حقوق وآداب اور تعظیم وتکریم کا تقاضہ یہ ہے کہ باوضو قرآن مجید میں دیکھ کر اس کی تلاوت کی جائے؛ تاکہ قرآن مجید کی عظمت وعزّت صحیح طریقہ سے کی جائے۔

(۷) روزانہ قرآن مجید کی تلاوت کے لئے کچھ وقت مقرّر کر لیں۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے جیسا کہ لوہے کو پانی لگنے سے زنگ لگتا ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! ان کی صفائی کی کیا صورت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت کو کثرت سے یاد کرنا اور قرآن مجید کی تلاوت کرنا۔

(۸) قرآن مجید کے حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ اس کے معانی میں غور کیا جائے؛ تاکہ قرآن مجید کے احکامات پر صحیح طریقے سے عمل ہو سکے؛ لہذا قرآن مجید کی تلاوت کے ساتھ ساتھ اس کی مختلف سورتوں کے معانی کو بھی سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ قرآن مجید کے معانی بذات خود سمجھنے کی کوشش نہ کریں؛ بلکہ کسی معتمد عالم کی زیر نگرانی میں سکھیں۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ اَمۡ عَلٰی قُلُوۡبٍ اَقۡفَالُہَا ﴿۲۴﴾

تو کیا یہ لوگ قرآن (کی آیات اور معانی) میں غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔


[۱]

Check Also

نکاح کی سنتیں اور آداب – ‏۱۸

ازدواجی تنازعات کو ختم کرنا جب میاں بیوی کے درمیان طلاق کے ذریعہ فرقت ہوتی …