
اگر ہم اپنی زندگی میں حضرت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے احسانات کا جائزہ لیں، تو ہمیں معلوم ہوگا کہ آپ کے احسانات ہمارے اوپر اس قدر زیادہ ہیں کہ ہم پر واجب ہے کہ ہم آپ کا شکریہ ادا کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا مقام ومرتبہ اتنا بلند ہے کہ آپ ہی کی وجہ سے ساری کائنات وجود میں آئی۔
شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
السلام اے سید اولاد آدم السلام
سلام ہو تجھ پر اے بنی آدم کے سردار
السلام اے باعث ایجاد عالم السلام
سلام ہو تجھ پر اے کائنات کے وجود کا ذریعہ۔
ہمیں قرآن مجید کی دولت حضرت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ذریعے ملی۔ ہمیں نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کا تحفہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے ذریعے ملا۔ درحقیقت ہمیں پورا دین نبی پاک صلی الله علیہ وسلم کے ذریعے پہنچا اور آپ ہی نے ہمارا تعلق اپنے خالق الله تعالی سے جوڑ دیا۔
غرض یہ کہ دنیا اور آخرت میں ہر دینی نعمت جو ہمیں الله تعالی کی طرف سے ملی، آپ صلی الله علیہ وسلم ہی اس کا سبب اور ذریعہ ہیں؛ لہذا تمام انسانوں میں سے حضور صلی الله علیہ وسلم کے حقوق ہمارے اوپر سب سے زیادہ ہیں۔
حضرت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے حقوق میں سے چار مندرجہ ذیل حقوق ہمارے اوپر واجب ہیں:
(۱) آپ کے لیے محبت کرنا
(۲) آپ پر ایمان لانا
(٣) آپ کی اطاعت کرنا
(٤) آپ پر درود وسلام بھیجنا
اگر کوئی شخص ان چاروں حقوق کو پورے اہتمام کے ساتھ ادا کرے، تو ان شاء الله وہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا شکر ادا کرےگا آپ کے ان احسانات کے لیے جو اس کو آپ صلی الله علیہ وسلم کے ذریعے ملے اور ان شاء الله ایسے آدمی کو حضور صلی الله علیہ وسلم کے حقوق کا ادا کرنے والا کہا جائےگا۔
محبت کا فریضہ
پہلا فریضہ یہ ہے کہ ہم اپنے دل میں حضرت رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی سچی محبت پیدا کریں۔
ایک حدیث شریف میں وارد ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آدمی کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا؛ جب تک کہ میں اس کی طرف سب سے زیادہ محبوب ہو جاؤں اس کے ماں باپ، اولاد اور تمام لوگوں سے بھی زیادہ (یعنی میری محبت اس کے دل میں اس کے ماں باپ، اولاد اور تمام لوگوں کی محبت سے زیادہ ہو جائے)۔ (صحیح البخاری، الرقم: ۱۵)
ایک مرتبہ حضرت عمر رضی الله عنہ نے حضرت رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے کہا: اے الله کے رسول! میں آپ سے اپنے جان کے علاوہ تمام چیزوں (اور لوگوں) سے زیادہ محبت کرتا ہوں۔ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی الله عنہ سے فرمایا کہ نہیں، اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے (تم اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتے)؛ جب تک کہ تم مجھ سے اپنی جان سے زیادہ محبت نہ کرو۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی الله عنہ نے فرمایا: اے الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم ! میں اب آپ سے ہر چیز سے زیادہ محبت کرتا ہوں؛ یہاں تک اپنے آپ سے بھی زیادہ محبت کرتا ہوں، پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! اب تمہارا ایمان کامل ہے۔ (صحیح البخاری، الرقم: ٦٦٣٢)
جب تک ہم حضرت رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے اتنی زیادہ محبت نہ کریں کہ ہم ہر چیز پر آپ صلی الله علیہ وسلم اور آپ کے احکام کو ترجیح دیں، اس وقت تک ہم الله تک پہنچنے میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી