
علامہ سخاوی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ سب سے افضل درود درود ابراہیم ہے؛ کیوں کہ حضرت رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی الله عنہم کو یہی درود سکھایا تھا جب انہوں نے آپ سے پوچھا کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں درود پڑھنے کا حکم دیا، تو ہم قرآن کے اس حکم کو کیسے پورا کریں۔
علامہ نووی رحمہ الله نے اپنی کتاب “روضہ” میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ قسم کھائے کہ وہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر سب سے افضل درود پڑھےگا، تو اگر وہ درودِ ابراہیمی پڑھے، تو اس کی قسم پوری ہو جائے گی۔
مشہور فقیہ علامہ شامی رحمۃ الله علیہ بیان کرتے ہیں کہ امام محمد رحمہ الله (جو امام ابو حنیفہ کے شاگرد تھے) ان سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر درود کن الفاظ سے پڑھے جائیں؟ تو انہوں نے یہی درود ابراہیم ارشاد فرمایا۔
یہی وجہ ہے کہ درود ابراہیمی کو فقہ حنفی میں سب سے افضل درود قرار دیا گیا ہے اور نماز میں اسی کا پڑھنا اولٰی وافضل شمار کیا گیا ہے۔
یہ بات ذہن نشیں رہے کہ درود شریف کے متعدد الفاظ مختلف صحابہ کرام سے منقول ہیں۔ ان صحابہ کرام نے یہ سارے درود براہ راست حضرت رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سیکھے؛ لیکن جب ہم ان مختلف درودوں کو دیکھتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کے الفاظ میں کچھ فرق ہے۔
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ الله علیہ فرماتے ہیں کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے مختلف صحابہ کو مختلف درود سکھائے؛ تاکہ کوئی لفظ خاص طور پر واجب نہ بن جائے۔
یہ بات بھی جاننا ضروری ہے کہ درود شریف پڑھنا ایک چیز ہے اور کوئی خاص درود شریف پڑھنا، جو حضرت رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے منقول ہے، وہ دوسری چیز ہے؛ لہٰذا اگر کوئی آدمی ایسا درود پڑھے، جو حضرت رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے منقول نہ ہو، تو وہ جائز ہے؛ بشرطیکہ الفاظ ومعنی بھی صحیح ہوں؛ البتہ اس خاص درود کو پڑھنا، جو حضرت رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے منقول ہے، وہ سب سے افضل ہے اور زیادہ اجر وثواب کا باعث ہے۔
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી