فضائلِ اعمال – ۳۸

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی صدقہ کے دودھ سے قے

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ دودھ نوش فرمایا کہ اس کا مزہ کچھ عجیب سا، نیا سا معلوم ہوا۔

جن صاحب نے پلایا تھا، ان سے دریافت فرمایا کہ یہ دودھ کیسا ہے؟ کہاں سے آیا ہے؟

اُنہوں نے عرض کیا کہ فلاں جنگل میں صدقہ کے اونٹ چر رہے تھے کہ میں وہاں گیا، تو اُن لوگوں نے دودھ نکالا، جس میں سے مجھے بھی دیا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے منہ میں ہاتھ ڈالا اور سارے کا سارا قے فرما دیا۔

ف: ان حضرات کو اس کا ہمیشہ فکر رہتا تھا کہ مشتبہ مال بھی بدن کا جزو نہ بنے؛ چہ جائے کہ بالکل حرام جیسا کہ ہمارے اس زمانہ میں شائع ہو گیا۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا احتیاطًا باغ وقف کرنا

ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی جب وفات کا وقت قریب آیا، تو آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ میرا دل نہیں چاہتا تھا کہ بیت المال سے کچھ لوں؛ مگر عمر نے نہ مانا کہ دقت ہوگی اور تمہاری تجارت کی مشغولی سے مسلمانوں کا حرج ہوگا، اس مجبوری سے مجھے لینا پڑا؛ اس لیے اب میرا فلاں باغ اس کے عوض میں دے دیا جائے۔

جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا وصال ہو گیا، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آدمی بھیجا اور والد کی وصیت کے موافق وہ باغ دے دیا۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ شانہ تمہارے باپ پر رحم فرمائیں! انہوں نے یہ چاہا کہ کسی کو لب کُشائی کا موقع ہی نہ دیں۔

ف: غور کرنے کی بات ہے کہ اوّل تو وہ مقدار ہی کیا تھی جو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لی، اس کے بعد لینا بھی اہل الرّائے کے اصرار پر تھا اور مسلمانوں کے نفع کی وجہ سے۔

اس میں بھی جتنی ممکن سے ممکن احتیاط ہو سکتی تھی، اس کا اندازہ قصہ (۴) باب (۳) سے معلوم ہو گیا کہ بیوی نے تنگی اٹھا کر پیٹ کاٹ کر کچھ دام میٹھے کے لیے جمع کیے، تو ان کو بیت المال میں جمع فرما دیا اور اتنی مقدار مستقل کم کر دی۔

اس سب کے بعد یہ آخری فعل ہے کہ جو کچھ لیا، اس کا بھی معاوضہ داخل کر دیا۔ (فضائل اعمال، حکایات صحابہ، ص ۶۹-۷۰)

Check Also

فضائلِ صدقات – ۳۰

عبد الحمید بن سعد رحمہ اللہ کی سخاوت ایک مرتبہ مصر میں قحط پڑا۔ عبد …