
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب مندجہ ذیل آیتِ شریفہ نازل ہوئی:
إِنَّ الله وَمَلئِٰكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلٰى النِّبِيِّ يٰأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا
بے شک اللہ اور ان کے فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں نازل فرماتے ہیں اور فرشتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعا مانگتے ہیں)۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجا کرو۔
تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ پر سلام بھیجنا تو جانتے ہیں (کیونکہ آپ نے ہم کو سکھایا کہ ہم نماز کے تشہد میں کس طرح آپ پر سلام بھیجیں)؛ لیکن ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آپ پر درود وصلوٰۃ کس طرح بھیجیں؟ (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن مجید کی اس آیت میں حکم دیا کہ ہم آپ پر درود وصلوٰۃ بھیجیں)۔
اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو درودِ ابراہیم سکھایا:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ وَبَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ
اے اللہ! درود (رحمت) بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد پر، جس طرح آپ نے درود بھیجا حضرت ابراھیم علیہ السلام پر اور ابراھیم علیہ السلام کی اولاد پر۔ بے شک آپ قابل تعریف اور بزرگ وبرتر ہیں اور (اے اللہ) برکت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد پر، جس طرح آپ نے برکت نازل فرمائی حضرت ابراھیم علیہ السلام پر اور ابراھیم علیہ السلام کی اولاد پر۔ بے شک آپ قابلِ تعریف اور بزرگ وبرتر ہیں۔
بعض روایات میں وارد ہے کہ ایک صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وصلاۃ بھیجنے کا طریقہ دریافت کیا۔ اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درود ابراہیم کا ذکر فرمایا۔
یہ بات ممکن ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعات پیش آئے ہیں۔ پہلے واقعہ میں چند صحابہ کرام دریافت کرنے آئے تھے اور دوسرے واقعہ میں ایک صحابی دریافت کرنے آئے تھے۔ دونوں موقعوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے درود ابراہیم کا ذکر فرمایا۔
بخاری شریف کی روایت جو حضرت عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ سے منقول ہے، اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح صحابہ کرام کو درود ابراہیم سکھایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے درود ابراہیم کو کتنی اہمیت دی تھی۔
حضرت عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں:
مجھ سے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی۔ وہ فرمانے لگے کہ میں تجھے ایک ایسا ہدیہ دوں، جو میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ میں نے عرض کیا: ضرور مرحمت فرمائیے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ پر درود کن الفاظ سے پڑھا جائے؟ یہ تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں بتلا دیا کہ آپ پر سلام کس طرح بھیجیں۔ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس طرح درود پڑھا کرو:
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَجِيْدٌ
اے اللہ! درود بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان کی آل پر جیسا کہ آپ نے درود بھیجا حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل (اولاد) پر۔ بیشک آپ ستودہ صفات اور بزرگ ہیں۔ اے اللہ! برکت نازل فرما محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور ان کی آل (اولاد) پر جیسا کہ برکت نازل فرمائی آپ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر اور ان کی آل (اولاد) پر۔ بیشک آپ ستودہ صفات اور بزرگ ہیں۔ (از فضائلِ درود)
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث میں ہدیہ دینے (یعنی درود ابراہیم کا تحفہ) کا ذکر ہے۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان مہمانوں کو ہدیہ دینے کی عادت تھی۔ صحابہ کرام کھانے پینے کی چیزیں یا دیگر مادی چیزیں ہدیہ دینے کی بجائے ایک دوسرے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ دینے کو ترجیح دیتے تھے۔ ایسی چیزیں ان کی نظر میں دنیا کی مادی چیزوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھیں اور ان کی زندگیاں اس کی گواہ تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے درود ابراہیم کو تحفہ کہا۔ (فضائلِ درود، ص ۵۶)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી