
أثنى رسول الله صلى الله عليه وسلم على سيدنا معاذ بن جبل رضي الله عنه فقال: وأعلمهم (أي: أمتي) بالحلال والحرام معاذ بن جبل (سنن الترمذي، الرقم: ٣٧٩٠)
ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا:
میری امت میں حلال وحرام کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھنے والے معاذ بن جبل ہیں۔ (سنن الترمذی، الرقم: ۳۷۹۰)
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی سخاوت
ایک مرتبہ حضرت عمر رضی الله عنہ نے چار سو دینار حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی الله عنہ کے پاس بھیجا اور غلام سے فرمایا کہ وہ حضرت ابو عبیدہ رضی الله عنہ کو دے کر تھوڑی دیر ٹھہرے اور دیکھے کہ حضرت ابو عبیدہ رضی الله عنہ اس پیسے سے کیا کرتے ہیں۔
جب حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کو وہ مال ملا، تو انہوں نے فرمایا: اللہ ان پر (یعنی حضرت عمر پر) رحم فرمائے۔
اس کے بعد انہوں نے اپنی باندی کو بلایا اور اس سے فرمایا کہ یہ سات دینار فلاں کو دے دو۔ یہ پانچ دینار فلاں کو دے دو۔ اس طرح انہوں نے ساری رقم تقسیم کر دی۔
واپس آ کر غلام نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پورا واقعہ سنایا۔
اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اتنا ہی مال حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور اس مرتبہ بھی غلام کو وہی حکم دیا۔
جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو وہ مال ملا، تو انہوں نے فرمایا: اللہ ان پر (یعنی حضرت عمر پر) رحم فرمائے۔
دو دینار کے علاوہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے بھی ساری رقم تقسیم کر دی۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے دو دینار اس لیے چھوڑ دیئے کہ ان کی اہلیہ نے ضرورت کی چیز خریدنے کے لیے ان سے درخواست کی تھی۔
جب غلام نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو پورا واقعہ سنایا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا: وہ سب بھائیوں کی طرح ہیں، جو نیک کام کرنے میں ایک دوسرے کے مشابہ ہیں۔ (سیر اعلام النبلاء ۳/۲۷۷ ؛ المعجم الکبیر، الرقم: ۴۶)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી