باغِ محبت (قسط اسّی)

اسلام کی کرنسی

اس دنیوی زندگی میں انسان کی ایک بنیادی فکر مال کا حصول ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان مال کو اس دنیوی زندگی کی کرنسی سمجھتا ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ مال کے ذریعے سے کتنے فوائد حاصل کر سکتا ہے۔

انسان سوچتا ہے کہ اگر اس کے پاس بہت زیادہ مال ہوگا، تو وہ ایک عالیشان گھر اور ایک عمدہ گاڑی خرید سکےگا۔

نیز وہ یہ سوچتا ہے کہ اگر اس کے پاس بہت زیادہ دولت ہوگی، تو وہ انتہائی لذیذ کھانا کھا سکےگا اور چُھٹیاں گزارنے کے لیے خوب صورت مقامات کا سفر کر سکےگا۔

اسی طرح وہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر اس کے پاس خوب مال ہوگا، تو وہ لوگوں کی نظروں میں ایک مالدار اور کامیاب انسان سمجھا جائےگا۔

لہذا انسان دولت کے حصول کے لیے رات ودن انتھک محنت اور کوشش کرتا ہے۔

جس طرح انسان مال کو اس دنیوی زندگی کی کرنسی اور دنیوی کامیابی کی بنیاد سمجھتا ہے، اسی طرح آخرت میں بھی ایک قسم کی ’’کرنسی‘‘ ہے، جو انسان کی کامیابی اور نجات کی بنیاد ہے۔ یہ کرنسی اسلام کی کرنسی ہے۔

قیامت کے دن اگر کوئی شخص یہ کرنسی یعنی اسلام کی ’’کرنسی‘‘ لے کر آئےگا، تو وہ کامیاب ہوگا اور جنت میں داخل ہوگا۔

اس کے برعکس اگر وہ اسلام کی کرنسی نہیں لے کر آئےگا، تو وہ پورے طور پر ناکام ہوگا اور اس کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائےگا، جہاں وہ ہمیشہ کے لیے رہےگا۔

آخرت میں اسلام کی اس کرنسی کے بارے میں لوگ مختلف درجے میں ہوں گے۔

جن لوگوں کا اسلام اعلی درجے کا ہے، وہ قیامت کے دن ’’مال دار طبقے‘‘ میں شمار کیے جائیں گے اور ایسے لوگوں کو آخرت میں جنت کے اعلیٰ درجات سے نوازا جائےگا۔

جہاں تک ان لوگوں کا معاملہ ہے، جو اسلام کا ادنی درجہ لے کر آئیں گے، تو انہیں ان کے درجے کے مطابق مقام دیا جائےگا۔

الله تعالی کے سامنے اسلام کی شفاعت

حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن آدمی کے مختلف نیک اعمال آئیں گے (الله تعالیٰ کے سامنے اس آدمی کے لیے شفاعت کرنے کے لیے)۔

نماز آئےگی اور کہےگی کہ اے الله! میں اس آدمی کی نماز ہوں! الله تعالیٰ اس کے جواب میں فرمائیں گے کہ تم خیر پر ہو (یعنی نماز قائم کرنے والے کو اجر ملےگا؛ البتہ نماز اس کی نجات کے لیے بنیادی بات نہیں ہوگی)۔

اس طرح صدقہ (یعنی زکوٰۃ) آئےگا اور کہےگا: اے الله! میں اس آدمی کا صدقہ ہوں! الله تعالیٰ جواب دیں گے: تم خیر پر ہو۔

پھر (رمضان کا) روزہ آئےگا اور کہےگا: اے الله! میں اس آدمی کا روزہ ہوں! الله تعالیٰ جواب دیں گے: تو خیر پر ہے۔

اس کے بعد باقی نیکیاں بھی اسی طرح آئیں گی (جس طرح نماز، زکوٰۃ اور رمضان کے روزے آئے تھے، یعنی جہاد، حج، علمِ دین حاصل کرنا اور اسی طرح کے دوسرے نیک اعمال آئیں گے اور الله تعالیٰ سے خطاب کریں گے اور الله تعالیٰ کی طرف سے وہی جواب دیا جائےگا)۔

اس کے بعد اسلام آئےگا اور کہے گا: اے الله! آپ سلام ہیں (یعنی آپ کے ناموں اور خوبصورت صفات میں سے ایک نام اور صفت سلام ہے اور آپ امن وسلامتی کا خالق بھی ہیں) اور میں اسلام ہوں (یعنی میں آپ کا امن وسلامتی والا دین ہوں؛ لہٰذا میں ان لوگوں کے لیے شفاعت کرتا ہوں، جنہوں نے مجھے مضبوطی سے پکڑا تھا کہ آپ انہیں آپ کے گھر دار السلام (یعنی جنت) میں داخل کریں۔

الله تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم خیر پر ہو۔ آج تم ہی وہ بنیاد اور معیار ہو، جس پر میں لوگوں کا مواخذہ کروں گا (اور انہیں جہنم میں داخل کروں گا) اور آج تم ہی وہ بنیاد اور معیار ہو، جس پر میں لوگوں کو ثواب دوں گا (اور انہیں جنت میں داخل کروں گا)۔

اس کے بعد رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے قرآن مجید کی درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی، جس میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں نجات کا واحد ذریعہ دینِ اسلام کو قبول کرنا ہے:

وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ

جس نے اسلام کے علاوہ (کسی اور دین کو) اپنا دین بنایا، تو اس سے اس کو ہرگز قبول نہیں کیا جائےگا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔

Check Also

باغِ محبت (قسط نواسی)

حضرت ابراہیم علیہ السلام پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فوقیت قرآن مجید …