اسلام کی کرنسی
اس دنیوی زندگی میں انسان کی ایک بنیادی فکر مال کا حصول ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان مال کو اس دنیوی زندگی کی کرنسی سمجھتا ہے اور وہ بھی یہ سوچتا ہے کہ وہ مال کے ذریعے سے کتنے فوائد حاصل کر سکتا ہے۔
انسان جانتا ہے کہ اگر اس کے پاس بہت زیادہ مال ہوگا، تو وہ ایک عالیشان گھر اور ایک عمدہ گاڑی خرید سکےگا۔
نیز وہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر اس کے پاس بہت زیادہ دولت ہوگی، تو وہ انتہائی لذیذ کھانا کھا سکےگا اور چُھٹیاں گزارنے کے لیے خوب صورت مقامات کا سفر کر سکےگا۔
اسی طرح وہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر اس کے پاس خوب مال ہوگا، تو وہ لوگوں کی نظروں میں ایک مالدار اور کامیاب انسان سمجھا جائےگا۔
لہذا انسان دولت کے حصول کے لیے رات ودن انتھک محنت اور کوشش کرتا ہے۔
جس طرح انسان مال کو اس دنیوی زندگی کی کرنسی اور دنیوی کامیابی و ترقی کی بنیاد تسلیم کرتا ہے، اسی طرح آخرت میں بھی ایک قسم کی ’’کرنسی‘‘ ہے جو انسان کی کامیابی اور نجات کی بنیاد ہے۔ یہ کرنسی اسلام کی کرنسی ہے۔
قیامت کے دن اگر کوئی شخص یہ کرنسی یعنی اسلام کی ’’کرنسی‘‘ لے کر آئے گا تو وہ ایک مال دار اور کامیاب شخص شمار ہوگا اور جنت میں داخل ہوگا۔
اس کے برعکس اگر وہ اسلام کی کرنسی نہیں لے کر آئے گا تو اس کو پورے طور پر دیوالیہ اور ناکام انسان سمجھا جائے گا اور اس کو جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا، جہاں وہ ہمیشہ کے لیے رہے گا۔
اسی طرح اہل ایمان کے درمیان اسلام کی اس کرنسی کے حوالے سے درجات کا اختلاف ہے۔
جن لوگوں کا اسلام اعلی درجے کا ہے ، وہ قیامت کے دن ’’مال دار طبقے‘‘ میں شمار کیے جائیں گے اور ایسے لوگوں کو آخرت میں جنت کے اعلیٰ درجات سے نوازا جائے گا۔
جہاں تک ان لوگوں کا معاملہ ہے ، جو اسلام کا ادنی درجہ لے کر آئیں گے تو انہیں ان کے درجے کے مطابق مقام دیا جائے گا۔
اللہ کے حضور اسلام کی شفاعت
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن بندے کے مختلف نیک اعمال آئیں گے (اللہ تعالیٰ کے سامنے اس شخص کی شفاعت کے لیے جو ان اعمال پر اپنی زندگی میں عمل کرتا تھا)۔
نماز آئے گی اور کہے گی کہ اے اللہ ! میں اس شخص کی نماز ہوں، اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرمائیں گے کہ تم نیکی پر ہو (نمازقائم کرنے والے کو اجر ملے گا، البتہ نماز اس کی نجات اور اس کے درجے کے تعین کی بنیادی کسوٹی نہیں ہو گی)۔
“صدقہ (زکوٰۃ) آئے گا اور کہے گا، ‘اے اللہ میں اس شخص کا صدقہ ہوں’، اللہ تعالیٰ جواب دیں گے ‘تم نیکی پر ہو’۔
پھر (رمضان کا) روزہ آئے گا اور کہے گا کہ اے اللہ میں اس شخص کا روزہ ہوں، اللہ تعالیٰ جواب دیں گے کہ تو خیر پر ہے۔
اس کے بعد دیگر نیکیاں بھی اسی طرح آئیں گی (جس طرح نماز، زکوٰۃ اور رمضان کے روزے آئے تھے، یعنی جہاد، حج، علم دین حاصل کرنا اور اسی طرح کے دوسرے نیک اعمال آئیں گے اور اللہ تعالیٰ سے خطاب کریں گے، اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہی جواب دیا جائے گا)۔
اس کے بعد اسلام آئے گا اور کہے گا کہ اے اللہ آپ سلام ہیں (آپ کے ناموں اور خوبصورت صفات میں سے ایک سلام ہے – امن و سلامتی کا خالق ) اور میں اسلام ہوں (آپ کا امن و سلامتی والا دین ) لہٰذا میں ان لوگوں کی شفاعت کرتا ہوں جنہوں نے مجھے مضبوطی سے تھام رکھا تھا کہ انہیں آپ کے دار السلام( جنت ) میں داخل کیا جائے ۔
اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم نیکی پر ہو، آج تم ہی وہ بنیاد اور معیار ہو جس پر میں لوگوں کا مواخذہ کروں گا (اور انہیں جہنم میں داخل کروں گا) اور آج تم ہی وہ بنیاد اور معیار ہو گے جس پر میں لوگوں کو بدلہ دوں گا (اور انہیں جنت میں داخل کروں گا)۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی، جس میں بتایا گیا ہے کہ آخرت میں نجات کا واحد ذریعہ دین اسلام کو قبول کرنا ہے:
وَ مَنۡ یَّبۡتَغِ غَیۡرَ الۡاِسۡلَامِ دِیۡنًا فَلَنۡ یُّقۡبَلَ مِنۡہُ ۚ وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۸۵﴾
جس نے اسلام کے علاوہ (کسی دین کو ) اپنا دین بنایا تو اس کو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી