حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رضامندی‎ ‎

حدّد سيدنا عمر رضي الله عنه قبل موته ستة من الصحابة الكرام رضي الله عنهم وأمرهم باختيار الخليفة من بينهم، وكان منهم سيدنا سعد رضي الله عنه.

قال سيدنا عمر رضي الله عنه عنهم: ما أجد أحدا أحق بهذا الأمر من هؤلاء النفر الذين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض، فسمى عليا، وعثمان، والزبير، وطلحة، وسعدا، وعبد الرحمن (صحيح البخاري، الرقم: ٣٧٠٠)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے انتقال سے پہلے چھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت بنائی تھی اور انہیں حکم دیا تھا کہ ان ہی میں سے وہ اگلے خلیفہ کا انتخاب کریں۔ اس جماعت میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ بھی تھے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ میں ان چھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ کسی اور کو خلافت کا اہل نہیں سمجھتا ہوں؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت فرما گئے، اس حال میں کہ آپ ان سے بہت خوش اور راضی تھے۔

انصار سے محبت

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:

میں نے ایک بار اپنے والد سے کہا: میرے پیارے والد! میں دیکھتا ہوں کہ آپ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں انصار کے ساتھ زیادہ محبت اور احترام کے ساتھ پیش آتے ہیں۔

میرے والد صاحب نے مجھ سے پوچھا: بیٹا! کیا آپ اس سے ناخوش ہیں؟

میں نے جواب دیا: نہیں! میں اس سے ناخوش نہیں ہوں؛ بلکہ ان کے ساتھ آپ کا خصوصی برتاؤ مجھے بہت پسند ہے؛ (لہذا میں اس خصوصی برتاؤ کی وجہ جاننا چاہتا ہوں)۔

یہ سن کر حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: (اس کی وجہ یہ ہے کہ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ صرف مومن انصار سے محبت کرےگا اور صرف منافق انصار سے دشمنی رکھےگا۔ (اسد الغابہ ۲/۳۱۰)

Check Also

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی‎ ‎

حجۃ الوداع کے موقع پر جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیمار تھے اور انہیں …