درود شریف کی برکت سے گناہوں کی معافی

عن أبي بردة بن نيار رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلي الله عليه وسلم: من صلى علي من أمتي صلاة مخلصا من قلبه صلى الله عليه بها عشر ‏صلوات ورفعه بها عشر درجات وكتب له بها عشر حسنات ومحا عنه عشر سيئات (السنن الكبرى للنسائى، الرقم: ۹۸۰۹، ورواته ثقات كما في ‏فتح الباري 11/167)‏

حضرت ابو بردہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت میں سے جو شخص دل سے اخلاص کے ساتھ مجھ پر ایک درود بھیجتا ہے، الله تعالیٰ اس کے بدلہ اس پر دس درود (رحمت) بھیجتے ہیں۔ (آخرت میں) اس کے دس درجات بلند کرتے ہیں۔ اس کے لیے دس نیکیاں لکھتے ہیں اور اس کے دس گناہوں کو مٹاتے ہیں۔

روزانہ کثرت سے درود شریف پڑھنا

ابو الفضل قومانی رحمہ الله کہتے ہیں کہ ایک شخص خراسان سے میرے پاس آیا اور اس نے یہ بیان کیا کہ میں مدینہ پاک میں تھا، میں نے حضورِ اقدس صلی الله علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کی، تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے مجھ سے یہ ارشاد فرمایا: جب تو ہمدان جائے، تو ابو الفضل بن زیرک رحمہ الله کو میری طرف سے سلام کہہ دینا۔

میں نے عرض کیا: یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم یہ کیا بات ہے! تو حضور صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ مجھ پر روزانہ سو مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ یہ درود پڑھا کرتا ہے:

ألّلهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَعَلى آلِ مُحَمَّدٍ جَزَى اللهُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَنَّا مَا هُوَ أَهْلُهُ

اے الله! محمد صلی الله علیہ وسلم جو نبی امیّ ہے اور ان کی آل (اہلِ بیت) پر درود بھیج۔ الله تعالیٰ محمد صلی الله علیہ وسلم کو ہماری طرف سے ایسا بدلہ عطا فرمائے جس کے وہ مستحق ہیں۔

ابو الفضل رحمہ الله کہتے ہیں کہ اس شخص نے قسم کھائی کہ وہ مجھے یا میرے نام کو حضورِ اقدس صلی الله علیہ وسلم کے خواب میں بتانے سے پہلے نہیں جانتا تھا۔

ابو الفضل رحمہ الله کہتے ہیں کہ میں نے اس کو کچھ غلہّ دینا چاہا، تو اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ میں حضورِ اقدس صلی الله علیہ وسلم کے پیام کو بیچتا نہیں (یعنی اس کا کوئی معاوضہ نہیں لیتا)۔

ابو الفضل رحمہ الله کہتے ہیں کہ اس کے بعد پھر میں نے اس شخص کو نہیں دیکھا۔ (فضائلِ درود، ص ۷۷)

حضرت ابو الخیر اقطع رحمۃ اللہ علیہ کا واقعہ

حضرت ابو الخیر اقطع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ منوّرہ فقر وفاقہ کی حالت میں آیا اور پانچ دن اس حال میں گزارا کہ مجھے ایک لقمہ بھی میسّر نہیں ہوا۔

چنانچہ میں روضۂ مبارک پر حاضر ہوا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سلام عرض کیا، پھر میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج رات میں آپ کا مہمان ہوں۔

اس کے بعد میں وہاں سے ہٹ گیا اور منبر کے پیچھے جا کر سو گیا۔

میں نے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی اور میں نے دیکھا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے دائیں جانب، حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ کے بائیں جانب اور حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کے سامنے تشریف فرما ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور مجھ سے فرمایا: کھڑے ہو جاؤ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے پاس تشریف لا رہے ہیں۔ میں اٹھ گیا اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک روٹی عنایت فرمائی۔ میں نے آدھی روٹی کھائی، پھر میری آنکھ کھل گئی، تو میں نے دیکھا کہ بقیہ آدھی روٹی میرے ہاتھ میں ہے۔ (القول البديع،ص ۳۳۸، طبقات الصوفية، ص۲۸۱)

يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ

 Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=5353

Check Also

صبح وشام درود شریف پڑھنا

عَن ابي الدرداء رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم مَن صَلَّى عَلَيَّ حِينَ يُصْبِحُ عَشرًا وَحِينَ يُمسِي عَشرًا أَدْرَكَتْهُ شَفَاعَتِى يَومَ القِيَامَة (فضائل درود)...