نماز میں امامت کا سب سے زیادہ حقدار

عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا ينبغي لقوم فيهم أبو بكر أن يؤمهم غيره (سنن ترمذی، الرقم: 3673)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس مجمع میں ابو بکر (رضی اللہ عنہ) موجود ہوں، وہاں ابو بکر کے علاوہ کسی اور کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ نماز میں لوگوں کی امامت کرے۔

حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ – خوبیوں اور بھلائیوں کے پیکر

ایک مرتبہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سوال کیا : آج تم میں سے کس نے روزہ رکھا ہے ؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں نے آج روزہ رکھاہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: آج تم میں سے کس نے کسی بیمار آدمی کی عیادت کی ہے؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں نے ایک بیمار آدمی کی عیادت کی ہے۔

اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: آج تم   میں سے کس نے کسی جنازہ میں شرکت کی ہے؟  حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:  میں نے آج ایک جنازہ میں شرکت کی ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : آج تم میں سے کس نے کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہے؟ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں نے آج ایک مسکین کو کھانا کھلایا ہے۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس میں یہ ساری خوبیاں جمع ہو گئیں، وہ یقینا جنت میں داخل ہوگا۔ (صحیح مسلم)

Check Also

اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی دعاؤں کی قبولیت‎ ‎

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے لیے دعا …