
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صلي علي عند قبري سمعته ومن صلى علي نائياً كفى أمر دنياه وآخرته وكنت له شهيداً وشفيعاً يوم القيامة رواه البيهقي في الشعب والخطيب وابن عساكر كذا في الدر وبسط طرقه السبكي في شفاء الأسقام وفي المواهب وشرحه عزاه إلى ابن أبي شيبة وعبد الرزاق (فضائلِ حج صـ ۱۰۰)
حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص میری قبر کے پاس کھڑا ہو کر مجھ پر درود پڑھتا ہے، میں اس کو خود سنتا ہوں اور جو کسی اور جگہ درود پڑھتا ہے، تو اس کی دنیا اور آخرت کی ضرورتیں پوری کی جاتی ہیں اور میں قیامت کے دن اس کا گواہ اور اس کا سفارشی ہوں گا۔
درود شریف کثرت سے لکھنا انتہائی اعلیٰ مقام کے حصول کا ذریعہ
جعفر بن عبد اللہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے (مشہور محدّث) حضرت ابو زرعہ رحمہ اللہ کو خواب میں دیکھا کہ وہ آسمان پر ہیں اور فرشتوں کی امامت نماز میں کر رہے ہیں۔
میں نے پوچھا کہ یہ عالی مرتبہ کس چیز سے ملا؟
انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے اِس ہاتھ سے دس لاکھ حدیثیں لکھی ہیں اور جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا نامِ مبارک لکھتا، تو حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نامِ نامی پر صلوٰۃ وسلام لکھتا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجے، اللہ تعالیٰ اس پر دس دفعہ درود (رحمت) بھیجتے ہیں۔
اس حساب سے حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے ایک کروڑ درود ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ شانہ کی تو ایک ہی رحمت سب کچھ ہے، پھر چہ جائیکہ ایک کروڑ۔ (فضائلِ درود، ص ۱۶۴، القول البدیع، ص ٤۸۹)
اللہ کی مخلوق کے سرتاج – حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
مشکوۃ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت سے قصہ نقل کیا گیا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت انبیاء کرام علیہم السلام کا تذکرہ کر رہی تھی کہ اللہ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خلیل بنایا اور حضرت موسی علیہ السلام سے کلام کی اور حضرت عیسی علیہ السلام اللہ کا کلمہ اور روح ہیں اور حضرت آدم علیہ السلام کو اللہ نے اپنا صفی قرار دیا۔
اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں نے تمہاری گفتگو سنی۔ بیشک ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ ہیں اور موسی علیہ السلام نجی اللہ ہیں (یعنی کلیم اللہ) اور ایسے ہی عیسی علیہ السلام اللہ کا کلمہ اور روح ہیں اور آدم علیہ السلام اللہ کے صفی ہیں؛ لیکن بات یوں ہے، غور سے سنو کہ میں اللہ کا حبیب ہوں اور اس پر کوئی فخر نہیں کرتا اور قیامت کے دن حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا اور اس جھنڈے کے نیچے آدم اور سارے انبیاء علیہم السلام ہوں گے اور اس پر فخر نہیں کرتا اور قیامت کے دن سب سے پہلے میں شفاعت کرنے والا ہوں گا اور سب سے پہلے جس کی شفاعت قبول کی جائےگی، وہ میں ہوں گا اور اس پر بھی میں کوئی فخر نہیں کرتا اور سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھلوانے والا میں ہوں گا اور سب سے پہلے جنت میں میں اور میری اُمت کے فقراء داخل ہوں گے اور اس پر بھی کوئی فخر نہیں کرتا اور میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ مکرم ہوں اولین اور آخرین میں اور کوئی فخر نہیں کرتا۔
يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ
Source:
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી