درود شریف پڑھنے تک دعا کا موقوف رہنا

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: إن الدعاء موقوف بين السماء والأرض لا يصعد منه شيء حتى تصلي على نبيك صلى الله عليه وسلم (سنن الترمذي، الرقم: 486)

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دعا (کی قبولیت) آسمان وزمین کے درمیان موقوف رہتی ہے۔ وہ اوپر نہیں جاتی ہے؛ یہاں تک کہ تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوسیوں کو  دوسروں پر ترجیح دینا

حضرت امام مالک رحمہ اللہ حدیث شریف کے طلبہ اور مدینہ منورہ کے باشندوں کو دوسرے لوگوں سے پہلے پڑھاتے تھے۔

کسی نے حضرت امام مالک رحمہ اللہ سے اس کی وجہ دریافت کی، تو آپ نے فرمایا: یہ لوگ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پڑوسی ہیں۔ (ترتیب المدارک،۱۳/۲)

حوضِ کوثر سے بھر پور پیالہ پینا

حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا:

جو شخص یہ چاہے کہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی حوض سے بھر پور پیالہ پیوے، وہ یہ درود پڑھا کرے:

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَعَلٰى آلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَأَوْلَادِهِ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ وَأَصْهَارِهِ وَأَنْصَارِهِ وَأَشْيَاعِهِ وَمُحِبِّيْهِ وَأُمَّتِهِ وَعَلَيْنَا مَعَهُمْ أَجْمَعِيْنَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِيْنَ

اے اللہ! درود (رحمت) بھیج محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر، ان کے اہل وعیال پر، ان کے صحابہ کرام پر، ان کی اولاد پر، ان کی پاک بیویوں پر، ان کے بچوں پر، ان کے گھر والوں پر، ان کے سُسرالی رشتہ داروں پر، ان کے مددگاروں (انصار) پر، ان کے پیروکاروں پر، ان سے محبت کرنے والوں پر، ان کی امت پر اور ان کے ساتھ ہم سب پر اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے!۔ (الشفا بتریف حقوق المصطفی ۲/۸۲ ؛ فضائل درود، ص ۶۵)

يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=5696  , http://ihyaauddeen.co.za/?p=7666

Check Also

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مخصوص درود

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا غمگین کیوں ہے علی بن عیسی خلیفہ کے وزیر کے پاس جاؤ، اس کو میرا  سلام پہنچاؤ اور یہ نشانی بتاؤ کہ تم ہر جمعہ کی رات مجھ پر ہزار مرتبہ درود پڑھنے کے بعد سوتے ہو؛ لیکن...