
عن عمار بن ياسر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن لله ملكا أعطاه أسماع الخلائق، فهو قائم على قبري إذا مت فليس أحد يصلي علي صلاة إلا قال: يا محمد صلى عليك فلان ابن فلان قال: فيصلي الرب تبارك وتعالى على ذلك الرجل بكل واحدة عشرا (رواه الطبراني، ونعيم بن ضمضم ضعيف وابن الحميري اسمه عمران قال البخاري: لا يتابع على حديثه وقال صاحب الميزان: لا يعرف وبقية رجاله رجال الصحيح كذا في مجمع الزوائد، الرقم: 17292)
حضرت عمّار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ کے ایک فرشتہ ہے، جس کو اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کی آواز سننے کی قوت عطا کی ہے۔ وہ فرشتہ میری قبر پر کھڑا رہےگا، جب سے میرا انتقال ہو جائےگا اور جب بھی کوئی بھی مجھ پر درود بھیجےگا، تو وہ فرشتہ مجھ سے کہےگا۔ اے محمد صلی الله علیہ وسلم! فلاں ابن فلاں نے آپ پر درود بھیجا ہے، پھر اللہ تبارک وتعالیٰ اس آدمی پر ہر درود کے بدلہ دس درود بھیجیں گے (یعنی اس پر دس رحمتیں نازل فرمائیں گے)۔
مسلسل درود شریف پڑھنا
ایک بزرگ نے خواب میں ایک بہت ہی بد ہیئت صورت دیکھی۔ انہوں نے اس سے پوچھا: تُو کیا بَلا ہے؟ اس نے کہا: میں تیرے برے عمل ہوں۔ انہوں نے پوچھا: تجھ سے نجات کی کیا صورت ہے؟ اس نے کہا: حضرتِ مصطفٰے محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف کی کثرت۔ (فضائلِ درود، ص۱۶۰)
چہرے کا رنگ متغیر ہونے کا واقعہ
امام غزالی رحمہ الله نے احیائے علوم میں عبد الواحد بن زید بصری رحمہ الله سے نقل کیا ہے کہ میں حج کو جا رہا تھا، ایک شخص میرا رفیقِ سفر ہو گیا۔ وہ ہر وقت چلتے، پھرتے، اٹھتے، بیٹھتے حضورِ اقدس صلی الله علیہ وسلم پر درود بھیجا کرتا تھا۔
میں نے اس سے اس کثرتِ درود کا سبب پوچھا۔ اس نے کہا کہ جب میں سب سے پہلے حج کے لیے حاضر ہوا، تو میرے باپ بھی ساتھ تھے۔ جب ہم لوٹنے لگے، تو ہم ایک منزل پر سو گئے۔ میں نے خواب میں دیکھا: مجھ سے کوئی شخص کہہ رہا ہے کہ اٹھ، تیرا باپ مر گیا اور اس کا منھ کالا ہو گیا۔
میں گھبرایا ہوا اٹھا، تو اپنے باپ کے منھ پر سے کپڑا اٹھا کر دیکھا، تو واقعی میرے باپ کا انتقال ہو چکا تھا اور اس کا منھ کالا ہو رہا تھا۔
مجھ پر اس واقعہ سے اتنا غم سوار ہوا کہ میں اس کی وجہ سے بہت ہی مرعوب ہو رہا تھا۔ اتنے میں میری آ نکھ لگ گئی۔ میں نے دوبارہ خواب میں دیکھا کہ میرے باپ کے سر پر چار حبشی کا لے چہرے والے، جن کے ہاتھ میں لوہے کے بڑے ڈنڈے تھے، مسلّط ہیں۔
اتنے میں ایک بزرگ نہایت حسین چہرہ دو سبز کپڑے پہنے ہوئے تشریف لائے اور انہوں نے ان حبشیوں کو ہٹا دیا اور اپنے دستِ مبارک کو میرے باپ کے منھ پر پھیرا اور مجھ سے ارشاد فرمایا کہ اٹھ، الله تعالیٰ نے تیرے باپ کے چہرے کو سفید کر دیا۔ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ کون ہیں۔ آپ نے فرمایا: میرا نام محمد (صلی الله علیہ وسلم) ہے۔
اس کے بعد سے میں نے حضورِ اقدس صلی الله علیہ وسلم پر درود کبھی نہیں چھوڑا۔ (فضائلِ درود ، ۱۷۷)
يَا رَبِّ صَلِّ وَسَلِّم دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી