
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے تقوٰی کے بیان میں
حضرات صحابہ کرام رضی الله عنہم کی ہر عادت، ہر خصلت اس قابل ہے کہ اس کو چُنا جائے اور اس کا اتباع کیا جائے اور کیوں نہ ہو کہ الله جل شانہ نے اپنے لاڈلے اور محبوب رسول (صلی الله علیہ وسلم) کی مصاحبت کے لیے اس جماعت کو چُنا اور چھانٹا۔
حضور صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میں بنی آدم کے بہترین قرن اور زمانہ میں بھیجا گیا۔
اس لیے ہر اعتبار سے یہ زمانہ خیر کا تھا اور زمانہ کے بہترین آدمی حضور صلی الله علیہ وسلم کی صحبت میں رکھے گئے۔
حضور صلی الله علیہ وسلم کی ایک جنازہ سے واپسی اور ایک عورت کی دعوت
حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم ایک جنازہ سے واپس تشریف لا رہے تھے کہ ایک عورت کا پیام کھانے کی درخواست لے کر پہنچا۔
حضور صلی الله علیہ وسلم خُدّام سمیت تشریف لے گئے اور کھانا سامنے رکھا گیا، تو لوگوں نے دیکھا کہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم لقمہ چبا رہے ہیں، نِگلا نہیں جاتا۔
حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس بکری کا گوشت مالک کی بغیر اجازت لے لیا گیا۔
اس عورت نے عرض کیا: یا رسول الله! میں نے ریوڑ میں بکری خریدنے آدمی بھیجا تھا، وہاں ملی نہیں۔ پڑوسی نے بکری خریدی تھی، میں نے اس کے پاس قیمت سے لینے کو بھیجا، وہ تو ملے نہیں۔ اُن کی بیوی نے بکری بھیج دی۔
حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیدیوں کو کھلا دو۔
ف: حضور صلی الله علیہ وسلم کی عُلوّ شان کے مقابلہ میں ایک مشتبہ چیز کا گلے میں اٹک جانا کوئی ایسی اہم بات نہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کے ادنٰی غلاموں کو بھی اس قسم کے واقعات پیش آجاتے ہیں۔ (فضائلِ اعمال، حکایاتِ صحابہ، ص ۶۷)
Alislaam.com – اردو हिन्दी ગુજરાતી