باغِ محبّت (تیرہویں قسط)‏

بسم الله الرحمن الرحيم

خیر وبرکت کی چابی

رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک دفعہ قبیلۂ بنو اشعر کا ایک وفد یمن سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہونچا۔

مدینہ منورہ پہونچنے کے بعد اس وفد کا توشہ ختم ہو گیا، تو انہوں نے ایک آدمی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، تاکہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے لئے کھانے کا انتظام کرنے کی درخواست کرے۔ جب وہ آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر پہونچا، تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ لوگوں کے سامنے یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا:

وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ  فِی الۡاَرۡضِ  اِلَّا عَلَی اللّٰہِ  رِزۡقُہَا وَ یَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّہَا وَ مُسۡتَوۡدَعَہَا ؕ کُلٌّ  فِیۡ  کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۶﴾

اور کوئی جانور زمین پر ایسا نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ذمہّ اس کا رزق نہ ہو اور اللہ تعالیٰ ہر ایک کے زیادہ رہنے کی جگہ اور کم رہنے کی جگہ کو جانتا ہے۔ ہر چیز کتابِ مبین (لوح محفوظ) میں درج ہے۔

جب اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ آیتِ کریمہ سنی، تو اس کے دل میں یہ بات آئی کہ جب اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو روزی دینے کی ذمہ داری لے لی ہے، تو مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے لئے اور اپنے وفد کے لئے کھانے پینے کے انتظام کی درخواست کرنے کی کیا ضرورت ہے، تو اس نے اپنے دل ہی میں یہ کہا کہ اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے تمام جانورں کی روزی کی پوری ذمہ داری بھی لے لی، تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے ذمہ داری لے لی، کیونکہ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک جانوروں سے کم تر نہیں ہیں۔

 چنانچہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی قوم کی درخواست کو پیش نہیں کی اور اپنی قوم کے پاس واپس چلا گیا، جب وہ اپنے لوگوں کے پاس پہونچا تو ان سے کہا: تمہارے لئے خوش خبری ہو ! تمہار ے پاس اللہ تعالیٰ کی مدد عنقریب آنے والی ہے، یہ بات سن کر لوگوں نے سوچا کہ اس نے ہمارا پیغام رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا دیا ہوگا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے کھانے پینے کا کچھ ضرور انتظام فرمائیں گے۔

اسی دوران میں دو آدمی روٹی اور گوشت سے بھرا ایک بڑا برتن لے کر ان کے پاس آ کر اور اس کے سامنے پیش کیا، چنانچہ انہوں نے شکم سیر ہو کر کھانا کھایا، پھر انہوں نے دیکھا کہ برتن میں بہت زیادہ کھانا بچ گیا ہے۔ تو انہوں نے بہتر سمجھا کہ وہ زائد کھانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیج دیں؛ تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں چاہیں اس کا استعمال کریں۔ چنانچہ انہوں نے دو آدمیوں سے کہا کہ یہ کھانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ۔

 پھر پورا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا؛ تاکہ کھانا بھیجنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ ادا کریں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہم نے آج تک اس کھانے سے زیادہ لذیذ کھانا نہیں کھایا، جو آپ نے ہمارے لیے بھیجا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت تعجّب ہوا اور آپ نے فرمایا: میں نے تمہار ے لیے کوئی کھانا نہیں بھیجا۔ تو انہوں نے بتایا کہ ہم نے اپنے ایک آدمی کو آپ کے پاس بھیجا تھا؛ تاکہ وہ آپ سے ہمارے کھانے کا انتظام کرنے کی درخواست کرے۔

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا کہ کیا معاملہ ہے؟ تو اس نے پوری بات بتائی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے تمہارے لیے وہ رزق بھیجا تھا۔ (تفسیر قرطبی ملخّصاً)

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زندگی گزرانے کے لیے ہر مخلوق رزق کی محتاج ہے؛ لیکن اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے رزق کو اپنے ہاتھ میں رکھا اللہ تعالیٰ جس کے لئے رزق فراخ کرنا چاہے وہ فراخ کرتے ہیں اور جس کے لئے تنگ کرنا چاہے وہ تنگ کرتے ہیں۔ کسی کو بھی عقل وخرد، طاقت وقوّت اور صلاحیت کی بنیاد پر روزی نہیں ملتی ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

ينالُ الفتى من عيشهِ وهو جاهلٌ : ويُكدي الفتى في دهره وهو عالم

ولو كانت الأرزاقُ تجري على الحجا (العقل) : هلكن إذن من جهلِهنَّ البَهَائِمُ

(ایک نوجوان اپنی زندگی خوش حالی اور مالداری کے ساتھ گزارتا ہے، جبکہ وہ جاہل ہے اور دوسرا نوجوان علم کے باوجود پوری زندگی مفلس رہتا ہے، اگر رزق کی تقسیم عقل کی بنیاد پر ہوتی، تو چوپائے اپنی جہالت کی وجہ سے ہلاک وبرباد ہو جاتے)

ایک حدیث شریف میں وارد ہے کہ  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امّت کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ”اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ پر اس طرح توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے، تو اللہ تعالیٰ تم کو اسی طرح روزی دیں گے جس طرح پرندوں کو روزی دیتے ییں۔ پرندے صبح کو خالی پیٹ جاتے ہیں اور شام کو شکم سیر ہو کر لوٹتے ہیں۔“ (ترمذی شریف)

یہ بات ہر وقت ہمارے ذہن میں رہنی چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ پر توکل ہی دنیا میں کامیابی وکامرانی کا راز اور رزق میں خیر وبرکت کی کلید ہے اور توکل کا مطلب یہ ہے کہ انسان جائز اسباب اختیار کرے اور ذرہ برابر بھی اللہ اور اس کے رسول کے احکا م کی خلاف ورزی نہ کرے؛ کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ اے لوگو ! اللہ سے ڈرو اور اسباب اختیار کرنے میں اختصار سے کام لو اور اگر تم میں سے کوئی یہ محسوس کرے کہ اس کو رزق ملنے میں دیر لگ رہی ہے، تو وہ اس کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے  طلب نہ کرے؛ کیونکہ گناہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا فضل نہیں ملتا ہے۔ (مستدرک حاکم)

 ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی توکل عطا فرمائیں اور ہماری زندگی کو خیر وبرکت سے بھر دے اور تمام حرام کاموں سے ہماری حفاظت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=17135


Check Also

مرض الموت

گر کوئی شخص مرض الموت میں ہو، مگر وہ کسی اور سبب سے مرجائے (مثال کے طور پر وہ آخری درجہ کے کینسر میں مبتلا ہو، مگر وہ  کار کے حادثہ  کی وجہ سے مرجائے) تب بھی اس بیماری کو ”مرض الموت “ ہی شمار کیا جائے گا...