زکوٰۃ کی رقم سے کھانے پینے کی چیزیں خرید کر غریب کو دینا

سوال:- کیا زکوٰۃ کی رقم سے کھانے پینے کی چیزیں خرید کر غریبوں کو کھلانا جائز ہے؟ کیا ماہِ رمضان میں زکوٰۃ کی رقم سے غریبوں کو افطار کرانا جائز ہے؟

الجواب حامدًا و مصلیًا

زکوٰۃ کی رقم سے غریبوں کو کھانا کھلانا جائز ہے، بشرطیکہ تملیک پائی جائے۔ تملیک کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ کا مال زکوٰۃ لینے والے کو دے کر مالک بنا دیا جائے؛ چناں چہ اگر زکوٰۃ کی رقم سے کھانے پینے کی چیزیں خرید کر غریب مسلمان کو مالک بنا دیا جائے، تو زکوٰۃ ادا ہوگی؛ لیکن اگر غریب مسلمان کو کھانے پینے کی چیزیں دے کر مالک نہ بنا دیا جائے؛ بلکہ اس کو  دعوت کے لیے بلایا جائے اور اس کو کھلایا جائے، تو اس سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی؛ کیوں کہ تملیک کی شرط نہیں پائی گئی۔

 اسی طرح اگر ماہِ رمضان میں زکوٰۃ کی رقم سے افطار کا سامان خرید کر غریبوں کو دے کر ان کو  مالک بنا دیئے جائے، تو زکوٰۃ ادا ہوگی؛ لیکن اگر انہیں افطار کا سامان نہ دیا جائے؛ بلکہ انہیں دعوت کے لیے بلائے جائے اور افطار کرایا جائے، تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی؛ کیوں کہ تملیک کی شرط نہیں پائی گئی۔

فقط واللہ تعالی اعلم

ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر

قال العلامة ابن عابدين – رحمه الله -: قوله ( تمليكا ) فلا يكفي فيها الإطعام إلا بطريق التمليك ولو أطعمه عنده ناويا الزكاة لا تكفي (رد المحتار ۲/۳٤٤)

وقيد بالتمليك احترازا عن الإباحة ولهذا ذكر الولوالجي وغيره أنه لو عال يتيما فجعل يكسوه ويطعمه وجعله من زكاة ماله فالكسوة تجوز لوجود ركنه وهو التمليك وأما الإطعام إن دفع الطعام إليه بيده يجوز أيضا لهذه العلة وإن كان لم يدفع إليه ويأكل اليتيم لم يجز لانعدام الركن وهو التمليك (البحر الرائق ۲/۲۱۷)

رجل يعول يتيما فجعل يكسوه ويطعمه وجعل ما يكسوه وما يأكل عنده من زكاة ماله أما الكسوة يجوز لوجود الركن وهو التمليك وأما الإطعام إن دفع إليه بيده يجوز أيضا لهذا وإن كان لم يدفع ويأكل اليتيم لم يجز لانعدام الركن وهو التمليك (التجنيس والمزيد ۲/۳۲۷)

ويشترط التمليك ولا يجوز التغدية والتعشية (الفتاوى السراجية صـ ۱۵٦)

دار الافتاء، مدرسہ تعلیم الدین

اسپنگو بیچ، ڈربن، جنوبی افریقہ

Source: http://muftionline.co.za/node/68

Check Also

صدقۂ فطر میں گندم اور جو کی قیمت ادا کرنا

سوال:- کیا صدقۂ فطر کی ادائیگی کے لیے گندم اور جو ہی دنیا ضروری ہے …