قیامت کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ترین شخص

عن ابن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن أولى الناس بي يوم القيامة أكثرهم علي صلاة ‏‏(صحيح ابن حبان، الرقم: ۹۱۱)‏

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جس نے مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجا (دنیوی زندگی میں)۔

حضرت ابو  ہریرہ رضی اللہ عنہ کی ہمہ وقت رسولِ کریم  صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر باشی

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مشہور صحابی ہیں۔ ان سے جتنی زیادہ حدیثیں منقول ہیں، اتنی کسی اور صحابی سے منقول نہیں۔ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں صرف چار سال گزار نے کا موقع ملا؛ چونکہ انہوں نے سنہ ۷ ہجری میں اسلام قبول کیا اور سنہ ۱۱ہجری میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دارِ فانی سے رخصت فرما گئے؛ لیکن انہوں نے بہت زیادہ حدیثیں روایت کی ہیں۔ اسی وجہ سے  لوگوں کو تعجب ہوتا تھا کہ اتنی کم مدّت میں انہوں نے اتنی زیادہ حدیثیں کیسے یاد کر لیں۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ لوگوں کو اس بات پر تعجّب ہوتا ہے کہ میں بہت زیادہ حدیثیں کیسے روایت کرتا ہوں۔ بات در اصل یہ ہے کہ میرے مہاجر بھائی تجارت میں مشغول رہتے تھے اور میرے انصار بھائی کاشتکاری میں لگے رہتے تھے، جب کہ میں ہمہ وقت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہا کرتا تھا۔ اور میں اصحابِ صفہ میں سے تھا۔ مجھے ذریعۂ معاش کی بالکل فکر نہیں رہتی تھی۔ میں ہمیشہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر رہتا تھا اور جو چیز بھی کھانے کے لیے میسّر ہو جاتی تھی، اسی پر قناعت کرتا تھا۔ بسا اوقات صرف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتا تھا۔ میرے علاوہ کوئی بھی نہیں ہوتا تھا۔

ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قوّتِ حافظہ کی کمزوری کی شکایت کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی چادر پھیلا دو۔ میں نے فوراً اپنی چادر پھیلائی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری چادر پر اپنے دستِ مبارک سے کچھ لکیر کھینچیں اور مجھ سے فرمایا: اس چادر کو اپنے بدن پر لپیٹ لو۔ میں نے اس کو اپنے سینے پر لپیٹ لیا۔ اس دن سے میری یہ کیفیت ہے کہ جو کچھ بھی میں نے یاد رکھنا چاہا،  میں کبھی نہیں بھولا۔ (صحیح البخاری)

يَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّم  دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ

Check Also

نمازِ فجر اور مغرب کے بعد سو (۱۰۰) بار درود شریف ‏

تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک شیشی لی اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک پسینہ جمع کرنے لگیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو سوال کیا کہ ”اے ام سلیم یہ تم کیا کر رہی ہو؟“...