حضر ت جبرئیل علیہ السلام اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بد دُعا ‏

عن كعب بن عجرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: احضروا المنبر فحضرنا فلما ارتقى درجة قال: آمين فلما ارتقى الدرجة الثانية قال: آمين فلما ارتقى الدرجة الثالثة قال: آمين فلما نزل قلنا: يا رسول الله لقد سمعنا منك اليوم شيئا ما كنا نسمعه قال: إن جبريل عليه الصلاة والسلام عرض لي فقال: بعدا لمن أدرك رمضان فلم يغفر له قلت: آمين فلما رقيت الثانية قال: بعدا لمن ذكرت عنده فلم يصل عليك قلت: آمين فلما رقيت الثالثة قال: بعدا لمن أدرك أبواه الكبر عنده أو أحدهما فلم يدخلاه الجنة قلت: آمين (المستدرك على الصحيحين للحاكم، الرقم: ۷۲۵٦، وقال: هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه وأقره الذهبي)

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”منبر کے قریب آ جاؤ“، تو ہم لوگ منبر کے قریب پہونچ  گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا اور فرمایا: ”آمین“۔ پھر دوسری سیڑھی پر قدم رکھا اور فرمایا: ”آمین“۔ پھر تیسری سیڑھی پر قدم رکھا اور فرمایا: ”آمین“۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ سے فارغ ہو کر نیچے اُترے، تو ہم نے عرض کیا ”اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ! آج ہم نے آپ سے ایسی بات سنی، جو پہلے کبھی نہیں سنی تھی“، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ”حضرت جبرئیل علیہ السلام میرے سامنے ظاہر ہوئے تھے (جب میں نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا، تو انہوں نے کہا) ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا پھر بھی اس کی بخشش نہ ہوئی (یعنی اس نے اس مہینہ کا حق ادا نہیں کیا)، تو میں نے کہا: آمین۔ پھر جب میں نے دوسری سیڑھی پر قدم رکھا، تو انہوں نے کہا ! ہلاک ہو وہ شخص، جس کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہو اور وہ آپ پر درود نہ بھیجے، تو میں نے کہا: آمین پھر جب میں نے تیسری سیڑھی پر قدم رکھا، تو انہوں نے کہا: ہلاک ہو وہ شخص، جس کے والدین یا ان دونوں میں سے ایک بُڑھا پے کو پہونچ جائیں اور (والدین کی خدمت نہ کرنے کی وجہ سے) وہ اس کو جنّت میں داخل نہ کرائیں، تو میں نے کہا: آمین۔“

لوگوں کے مجمع میں درود شریف پڑھنا

نزھۃ المجالس کے مصنف ایک بزرگ کا واقعہ نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ میرا ایک پڑوسی تھا، جو انتہائی گنہگار تھا۔ میں ہمیشہ اس کو توبہ کی ترغیب دیتا تھا؛ لیکن وہ نہیں مانتا تھا۔ جب اس کا انتقال ہو گیا، تو میں نے اس کو جنّت میں دیکھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ وہ جنت میں کیسے پہونچا، تو اس نے جواب دیا کہ ”میں ایک مرتبہ ایک محدّث کی مجلس میں تھا۔ انہوں نے فرمایا کہ’جو بلند آواز سے درود شریف پڑھتا ہے، اس کو جنت ملے گی،’ تو میں نے اور مجلس کے دیگر لوگوں نے بھی بلند آواز سے درود شریف پڑھا۔ جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ہمارے گناہوں کو معاف کر دیا اور ہم سب کو جنّت میں داخل کر دیا۔“ (نزھۃ لامجالس)

يَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّم  دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ

Source: https://ihyaauddeen.co.za/?p=6463

Check Also

قیامت کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب ترین شخص

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن مجھ سے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جس نے...