نکاح اور ولیمہ کی سنتیں اور آداب

میاں بیوی کی ذمہ داریاں

شریعت نے میاں بیوی میں سے ہر ایک کو الگ الگ ذمہ داریاں دی ہے، شریعت نے دونوں کو الگ ذمہ داریوں کا مکلف اس وجہ سے بنایا، کیونکہ مرد اور عورت مزاج اور فطرت کے اعتبار سے مختلف ہیں؛ لہذا دونوں کا فرضِ منصبی ایک نہیں ہو سکتا ہے۔

شوہر کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی اور گھر والوں کی ضروریات پوری کرے۔ جیسے کہ ان کے لیے نان ونفقہ، کپڑا اور رہائیش کا انتظام کرے، چنانچہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ گھر سے باہر نکلے؛ تاکہ وہ اتنی آمدنی حاصل کر سکے، جس سے وہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کر سکے۔

دوسری طرف بیوی کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ گھر میں رہے اور بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلے۔ اسی طرح شریعت نے اسے اس بات کا مکلّف بنایا ہے کہ وہ گھر کی اندرونی ضرورتوں کا خیال رکھے، جیسے کہ شوہر کی خدمت کر ے، بچوں کی دیکھ بھال کرے اور خانگی امور (کھانا پکانا اور گھر کی صفائی وغیرہ) کا انتظام کرے۔ [۱]

حدیث شریف میں وارد ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو اپنی ازدواجی ذمہ داریوں سے آگاہ فرمایا اور ان کو پورا کرنے کی نصیحت فرمائی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ تم گھریلو امور کا خیال رکھو اور حضرت علی رضی اللہ  عنہ سے فرمایا کہ تم گھر کے باہر کی ذمہ داریوں کی تکمیل کرو۔ [۲]

حقیقت یہ ہے کہ اگر زوجین اپنی اپنی ذمہ داریاں اچھی طرح نبھائیں، تو گھر کا نظام اچھی طرح چلےگا اور دونوں کے نکاح میں ہمیشہ اتحاد و اتفاق اور محبّت والفت رہےگی۔


 

[۱] وَ قَرۡنَ فِیۡ بُیُوۡتِکُنَّ وَ لَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ الۡجَاہِلِیَّۃِ  الۡاُوۡلٰی وَ اَقِمۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتِیۡنَ الزَّکٰوۃَ  وَ  اَطِعۡنَ اللّٰہَ  وَ  رَسُوۡلَہٗ ؕ (سورة الأحزاب: ۳۳)

[۲] مصنف ابن ابي شيبة، الرقم: ۲۹٦۷۷، وقال البوصيري في اتحاف الخيرة المهرة، الرقم: ۳۲۷٤: هذا إسناد مرسل ضعيف لضعف أبي بكر بن عبد الله

Check Also

مسجد کی سنتیں اور آداب – ۹

حضرت عمر و بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجدیں زمین پر اللہ تعالیٰ کے مکانات ہیں اور میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“۔۔۔