مسجد کی سنتیں اور آداب – ۸

(۱) ہر وقت مسجد سےاپنا دل لگائیے یعنی جب آپ ایک نماز سے فارغ ہو کر مسجد سے نکل جائے، تو دوسری نماز کے لیے آنے کی نیت کیجئے اور اس کا شدت سے انتظار کیجئے۔ [۱]

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ألا أدلكم على ما يمحو الله به الخطايا ويرفع به الدرجات قالوا بلى يا رسول الله قال إسباغ الوضوء على المكاره وكثرة الخطا إلى المساجد وانتظار الصلاة بعد الصلاة فذلكم الرباط (صحيح مسلم رقم ۲۵۱)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”کیا میں تمہیں وہ اعمال نہ بتاؤں، جن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ (تمہارے) گناہوں کو مٹاتے ہیں اور (تمہارے) درجات بلند فرماتے ہیں۔“ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا: اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) ! آپ ہمیں  ضرور بتائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :”مشقت و دشواری کے باوجود مکمل وضو کرنا، مسجدوں کی طرف چلنا قدموں کی کثرت کے ساتھ(یعنی مسجد کو کثرت سے چلنا) اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ یہ اعمال رباط ہیں (ان تین اعمال کے ذریعہ سے نفس اور شیطان کے شرور و فتن سے حفاظت ہوتی ہے، جس طرح سرحد پر پہرہ دینے سے دشمنوں کے حملہ سے حفاظت ہوتی ہے)۔“

(۲) مسجد میں نماز پڑھنے کی نیّت کے ساتھ ساتھ مصلّی کو چاہیے کہ اگر مسجد میں کوئی دینی پروگرام ہو رہا ہو، تو مسجد میں علمِ دین سیکھنے کی نیّت سے آئے اور اگر کسی کو اللہ تعالیٰ نے علمِ دین عطا فرمایا ہو اور وہ لوگوں کو علمِ دین سکھانے کی صلاحیت رکھتا ہو (جیسے عالم، مفتی وغیرہ)، تو وہ دین کی تعلیم و اشاعت کی نیّت سے آئے۔

عن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من جاء مسجدي هذا لم يأته إلا لخير يتعلمه أو يعلمه فهو بمنزلة المجاهد في سبيل الله ومن جاء لغير ذلك فهو بمنزلة الرجل ينظر إلى متاع غيره (سنن ابن ماجة رقم ۲۲۷)[۲]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”جو شخص میری اس مسجد میں آئے اور وہ صرف اچھی بات سیکھنے یا سکھانے کی نیّت سے آئے، تو وہ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہوگا اور جو شخص اس کے علاوہ کسی اور مقصد سے مسجد میں آئے (یعنی اللہ تعالیٰ کی عبادت اور دینی غرض کے علاوہ کے لیے آئے)، تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو دوسروں کے سامان کی طرف دیکھتا ہے (جو بِک رہا ہے؛ لیکن اس کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے)۔“

عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من أتى المسجد لشيء فهو حظه (سنن أبي داود، الرقم: ٤۷۲)[۳]

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”جس نیّت کے ساتھ کوئی مسجد آوے، تو اس کو اپنی نیّت کے مطابق حصہ ملےگا (یعنی اس کی نیّت کے مطابق اس کو ثواب دیاجائےگا)۔“

(۳) مسجد کی صفائی ستھرائی کے اہتمام کے ساتھ ساتھ، مسجد کو عود وغیرہ کی خوشبو سے مُعطّر رکھیے۔

عن عائشة، قالت: أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم ببناء المساجد في الدور، وأن تنظف، وتطيب وقال سفيان: قوله ببناء المساجد في الدور يعني القبائل (سنن الترمذي رقم ۵۹٤)[٤]

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”مختلف محلّوں میں مسجدیں تعمیر کی جائیں اور ان کو صاف ستھرا اور مُعطّر رکھا جائے۔“

عن ابن عمر أن عمر بن الخطاب كان يجمر المسجد في كل جمعة (المصنف لابن أبي شيبة رقم ۷۵۲۳)[۵]

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ”حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ ہر جمعہ کو مسجد میں دھونی دیتے تھے۔“

(۴) اگر کسی کو مسجد میں اونگھ آئے، تو وہ اپنی جگہ بدل کر دوسری جگہ جا کر بیٹھ جائے۔ دوسری جگہ جا کر بیٹھنے سے اونگھ زائل ہو جائے گی؛ مگر یہ خیال رہے کہ خطبہ کے دوران جگہ نہ بدلے۔

عن ابن عمر قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إذا نعس أحدكم وهو في المسجد فليتحول من مجلسه ذلك إلى غيره (سنن أبي داود رقم ۱۱۱۹)[٦]

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ”جب تم میں سے کسی کو مسجد میں اونگھ آئے، تو وہ اپنی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ جا کر بیٹھ جائے۔“

(۵) مسجد کی تزیین کاری کے لیے وقف کے مال کا استعمال نہ کریں۔ اگر کسی کو مسجد کی تزیین کاری کا شوق ہو، تو وہ اس کے لیے اپنا ذاتی مال استعمال کرے اور شریعت کے حدود میں رہتے ہوئے صرف کرے۔ [۷]

عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما أمرت بتشييد المساجد قال ابن عباس: لتزخرفنها كما زخرفت اليهود والنصارى (سنن أبي داود رقم ٤٤۸)[۸]

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا: ”مجھے مسجدوں کی عمارتوں کو بلند وبالا کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے (بغیر کسی ضرورت کے، محض زیب و زینت کے لیے مسجد کی عمارت کو بلند و بالا کرنا ممنوع ہے)۔“ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ ”(ایک وقت ایسا آئے گا کہ) تم لوگ ضرور مسجدوں کو مزین کروگے (شریعت کے حدود سے بڑھ کر)، جس طرح یہود و نصاریٰ نے اپنی عبادت گاہوں کو مزین کیا۔“

 

Source: https://ihyaauddeen.co.za/?p=7640


[۱] عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: سبعة يظلهم الله تعالى في ظله يوم لا ظل إلا ظله إمام عدل  وشاب نشأ في عبادة الله ورجل قلبه معلق في المساجد ورجلان تحابا في الله اجتمعا عليه وتفرقا عليه ورجل دعته امرأة ذات منصب وجمال فقال إني أخاف الله ورجل تصدق بصدقة فأخفاها حتى لا تعلم شماله ما تنفق يمينه ورجل ذكر الله خاليا ففاضت عيناه (صحيح البخاري رقم ۱٤۲۳)

[۲] قال البوصيري في الزوائد (۱/۸۳): إسناده صحيح على شرط مسلم ‏

[۳] قال المنذري: في إسناده عثمان بن أبي العاتكة الدمشقي وقد ضعفه غير واحد (مختصر سنن أبي داود ۱/۱۹٤)

قال الذهبي في ميزان الإعتدال (۵/۵۳): تحت ترجمة عثمان بن أبي العاتكة قال أحمد لا بأس به

[٤] قال المنذري: رواه أحمد والترمذي وقال حديث صحيح وأبو داود وابن ماجه وابن خزيمة في صحيحه ورواه الترمذي مسندا ومرسلا وقال في المرسل هذا أصح (الترغيب والترهيب، الرقم: ٤۳۲)

[۵] قال المنذري: أخرجه الترمذي وقال حديث حسن صحيح وفيه إذا نعس أحدكم يوم الجمعة (مختصر سنن أبي داود ۱/۳٦۳)

[٦] قال المنذري: أخرجه الترمذي وقال حديث حسن صحيح وفيه إذا نعس أحدكم يوم الجمعة (مختصر سنن أبي داود ۱/۳٦۳)‏

[۷] عن أنس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لا تقوم الساعة حتى يتباهى الناس في المساجد (سنن أبي داود، الرقم: ٤٤۹)‏

[۸] هذا الحديث سكت عنه أبو داود والمنذري (مختصر سنن أبي داود ۱/۱۸۹)‏

Check Also

مسجد کی سنتیں اور آداب – ۹

حضرت عمر و بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجدیں زمین پر اللہ تعالیٰ کے مکانات ہیں اور میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“۔۔۔