حقیقی بخیل

عن حسين بن علي بن أبي طالب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: البخيل الذي من ذكرت عنده فلم ‏يصل علي (سنن الترمذي، الرقم: ۳۵٤٦، وقال هذا حديث حسن صحيح غريب)‏

حضرت حسین بن علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”حقیقی بخیل وہ ہے کہ جس کے سامنے میرا تذکرہ کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔“

درود میں ”تسلیماً“ کا اضافہ

ابو اسحٰق نہشل کہتے ہیں کہ میں حدیث کی کتاب لکھا کرتا تھا اور اس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پاک نام اس طرح لکھا کرتا تھا:

”قال النبی صلی الله عليه وسلم تسلیما“

میں نے خواب میں دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری لکھی ہوئی کتاب ملاحظہ فرمائی اور ملاحظہ فرما کر ارشاد فرمایا کہ ”یہ عمدہ ہے۔“ (فضائل درود، ص۱۶۷)

نوٹ: حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایسا لگتا ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو اسحق نہشل کے درود شریف میں ”تسلیماً“ کا لفظ بڑھانے سے بہت خوش ہوئے۔

يَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّم  دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ

Source: https://ihyaauddeen.co.za/?p=6160, http://ihyaauddeen.co.za/?p=5694

Check Also

نمازِ فجر اور مغرب کے بعد سو (۱۰۰) بار درود شریف ‏

تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک شیشی لی اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک پسینہ جمع کرنے لگیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو سوال کیا کہ ”اے ام سلیم یہ تم کیا کر رہی ہو؟“...