تبلیغِ دین میں محنت

حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا :

”سیّدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتدائے اسلام کے زمانہ میں (جب دین ضعیف تھا اور دنیا قوی تھی) بے طلب لوگوں کے گھر جا جا کر ان کی مجلس میں بلا طلب پہنچ کر دعوت دیتے تھے، طلب کے منتظر نہیں رہے۔ بعض مقامات پر حضرات صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو از خود بھیجا ہے کہ فلاں جگہ تبلیغ کرو۔ اِس وقت (امّت میں) وہی ضعف کی حالت ہے تو اب ہم کو بھی بے طلب لوگوں کے پاس خود جانا چاہیئے۔“ (ملفوظات حضرت مولانا محمد الیاس رحمہ اللہ، ص۴۰)


 

Check Also

تبلیغِ دین میں محنت

”لوگوں کو دین کی طرف لانے اور دین کے کام میں لگانے کی تدابیر سوچا کرو (جیسے دنیا والے اپنے دنیاوی مقاصد کے لیے تدبیریں سوچتے رہتے ہیں) اور جس کو جس طرح سے متوجہ کر سکتے ہو اس کے ساتھ اسی راستہ سے کوشش کرو۔“...