مسجد کی سنتیں اور آداب – ٦

(۱) مسجد اور اس کی ساری چیزوں میں تمام مصلیوں کو برابر حق حاصل ہیں؛ لہذا کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ مسجد میں کوئی جگہ یا مسجد کی کسی چیز کو اپنے لیے خاص کرے۔ [۱]

عن عبد الرحمن بن شبل رضي الله عنه قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نقرة الغراب وافتراش السبع وأن يوطن الرجل المكان في المسجد كما يوطن البعير (سنن أبي داود رقم ۸٦۲)[۲]

حضرت عبد الرحمٰن بن شبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”کوّے کی طرح ٹھونگ مارنے سے منع کیا (یعنی جلدی جلدی سجدہ کرنے سے منع فرمایا) اور درندے کی طرح بازوؤں کو زمین پر بچھانے سے منع کیا (یعنی سجدہ کی حالت میں بازوؤں کو بچھانے سے منع فرمایا)، (نیز اس بات سے منع فرمایا کہ) اور کوئی آدمی مسجد میں اپنے لیے کسی جگہ کو متعین کر ے جس طرح اونٹ متعین کر لیتا ہے۔“

(۲) مسجد میں کسی آدمی کو اس کی جگہ سے اٹھانا تاکہ اس کی جگہ دوسرا آدمی بیٹھے، جائز نہیں ہے۔

عن ابن عمر عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه نهى أن يقام الرجل من مجلسه ويجلس فيه آخر ولكن تفسحوا وتوسعوا (صحيح البخاري رقم ٦۲۷٠)

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کسی آدمی کو (مسجد میں) اس کی جگہ سے اٹھایا جائے اور دوسرا شخص اس کی جگہ پر بیٹھے۔ بلکہ (لوگوں کو کہنا چاہیئے کہ) بیٹھنے کے لیے گنجائش نکالیے (آنے والوں کو بیٹھنے کی جگہ دیں)۔“

(۳) مسجد میں انگلیاں مت چٹخاؤ اور انگلیوں کو ایک دوسرے میں مت داخل کرو۔ [۳]

عن مولى لأبي سعيد الخدري قال بينا أنا مع أبي سعيد وهو مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ دخلنا المسجد فإذا رجل جالس في وسط المسجد محتبيا مشبكا أصابعه بعضها في بعض فأشار إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم يفطن الرجل لإشارة رسول الله صلى الله عليه وسلم فالتفت إلى أبي سعيد فقال إذا كان أحدكم في المسجد فلا يشبكن فإن التشبيك من الشيطان وإن أحدكم لا يزال في صلاة ما كان في المسجد حتى يخرج منه (مجمع الزوائد رقم ۲٠٤۷، الترغيب والترهيب رقم ٤۵٠)

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ غلام فرماتا ہے کہ میں ایک مرتبہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم لوگ مسجد میں داخل ہوئے، تو (ہم نے دیکھا کہ) ایک شخص مسجد کے بیچ میں اکڑوں بیٹھا ہوا تھا اور اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کر کے بیٹھا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کی طرف اشارہ کیا؛ لیکن اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارہ کو نہیں سمجھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں ہو، تو ہرگز تشبیک نہ کرے (انگلیوں کو انگلیوں میں داخل نہ کرے) کیوں کہ تشبیک شیطان کی طرف سے ہے (نیز آپ نے فرمایا کہ) بے شک تم میں سے کوئی شخص جب تک مسجد میں رہتا ہے، تو برابر وہ نماز میں رہتا ہے(یعنی اس کو نماز کا ثواب ملتا رہتا ہے) تا آں کہ وہ مسجد سے نکل جائے۔“

(۴) مسجد میں گندگی پھیلانا ممنوع ہے۔ مثال کے طور پر مسجد میں تھوکنا، ناک صاف کرنا اور مسجد کے فرش پر گندی چیزیں ڈالنا یہ سب ممنوع ہیں۔

عن أبي ذر رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عرضت علي أعمال أمتي حسنها وسيئها فوجدت في محاسن أعمالها الأذى يماط عن الطريق ووجدت في مساوئ أعمالها النخاعة تكون في المسجد لا تدفن (صحيح مسلم رقم ۵۵۳)

حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”میرے سامنے میری امت کے اچھے اور برے دونوں قسم کے اعمال پیش کیے گئے، تو میں نے ان کے اچھے اعمال میں ایک یہ عمل پایا کہ راستہ سے تکلیف دہ چیز کا ہٹا دینا اور برے اعمال میں ایک یہ عمل پایا کہ مسجد میں ناک صاف کرنا اور اس کو (ناک کی ریزش کو) دفن نہ کرنا۔“

عن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم البزاق في المسجد خطيئة وكفارتها دفنها (صحيح البخاري رقم ٤۱۵)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس کو (تھوک کو) گاڑ دیا جائے (حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد کا حال یہ تھا کہ لوگ مٹی پر نماز پڑھتے تھے اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا۔ آجکل مساجد میں قالین اور چٹائی بچھی ہوئی ہیں؛ لہذا یہ حکم متعلق نہیں ہے)۔“

(۵) مسجد میں سکون و وقار کے ساتھ  رہیے اور مسجد کی عظمت و حرمت اور اس کے آداب سے غفلت مت برتیئے۔ بعض لوگ نماز کے انتظار میں اپنے کپڑوں یا موبائل فون سے کھیلتے ہیں۔ یہ مسجد کی عظمت و حرمت کے خلاف ہے۔ [۴]

Source: https://ihyaauddeen.co.za/?p=7635


[۱] ولا يتعين مكان مخصوص لأحد حتى لو كان للمدرس موضع من المسجد يدرس فيه فسبقه غيره إليه ليس له إزعاجه وإقامته منه (البحر الرائق ۲/۳٦)

[۲] سكت عنه، ثم المنذري بعده (مختصر سنن أبي داود ۱/۲۹۹)

قال المنذري في الترغيب والترهيب (رقم ۷٤۷): رواه أحمد وأبو داود والنسائي وابن ماجه وابن خزيمة وابن حبان في صحيحيهما

[۳] ذكر الفقيه رحمه الله تعالى في التنبيه حرمة المسجد خمسة عشر… والثالث عشر أن لا يفرقع أصابعه فيه (الهندية ۵/۳۲۱)

[٤] وَمَن يُعَظِّم شَعائِرَ اللَّـهِ فَإِنَّها مِن تَقوَى القُلوبِ (الحج ۳۲)

وَمَن أَظلَمُ مِمَّن مَنَعَ مَساجِدَ اللَّـهِ أَن يُذكَرَ فيهَا اسمُهُ وَسَعىٰ في خَرابِها أُولـٰئِكَ ما كانَ لَهُم أَن يَدخُلوها إِلّا خائِفينَ لَهُم فِي الدُّنيا خِزيٌ وَلَهُم فِي الآخِرَةِ عَذابٌ عَظيمٌ  (البقرة ۱٤٤)

Check Also

نکاح اور ولیمہ کی سنتیں اور آداب

شریعت نے میاں بیوی میں سے ہر ایک کو الگ الگ ذمہ داریاں دی ہے، شریعت نے دونوں کو الگ ذمہ داریوں کا مکلف اس وجہ سے بنایا، کیونکہ مرد اور عورت مزاج اور فطرت کے اعتبار سے مختلف ہیں؛ لہذا دونوں کا فرضِ منصبی ایک نہیں ہو سکتا ہے...