جنازہ اٹھانے کا طریقہ

(۱) میّت کو مندرجہ ذیل طریقہ کے مطابق اٹھانا مستحب ہے:

(الف) سب سے پہلے میّت کی چارپائی کے اگلے حصّہ کے بائیں پیر کو اٹھا کر اپنے دائیں کندھے پر رکھے اور اس کے ساتھ کم سے کم دس قدم چلے۔

(ب) میّت کی چارپائی کے پچھلے حصّہ کے بائیں پیر کو اٹھائے اور اپنے دائیں کندھے پر رکھے پھر اس کے ساتھ کم سے کم دس قدم چلے۔

(ج) میّت کی چارپائی کے اگلے حصّہ کے دائیں پیر کو اٹھائے اور اپنے بائیں کندھے پر رکھے پھر اس کے ساتھ کم از کم دس قدم چلے۔

(د) آخر میں میّت کی چارپائی کے پچھلے حصّہ کے بائیں پیر کو اٹھائے اور اپنے دائیں کندھے پر رکھے پھر اس کے ساتھ کم از کم دس قدم چلے۔

اس طریقہ پر عمل کرنے سے میّت کو چالیس قدم اٹھا کر چلنا ہوگا؛ [۱] لیکن اگر بھیڑ کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو، تو جتنی دیر بھی ہو سکے آپ میّت کی چارپائی کو اٹھا کر چلے۔

(۲) جنازہ کو تیزی سے لے کر چلنا مسنون ہے؛ لیکن دوڑنا نہیں چاہیئے اور نہ ہی اتنا زیادہ تیز چلنا چاہیئے کہ میّت کا جسم ایک طرف سے دوسری طرف ہلنے لگے۔ [۲]

(۳) جو لوگ جنازے کے ساتھ چلتے ہیں، ان کے لیے جنازہ کو زمین پر رکھنے سے پہلے بیٹھنا مکروہ ہے؛ لیکن اگر کوئی کسی وجہ سے (مثلاً: بیماری یا بُڑھاپے کی وجہ سے) معذور ہو، تو اس کے لیے بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ [۳]

(۴) اگر جنازہ لوگوں کے سامنے سے گزر جائے، تو جنازے کو دیکھ کر لوگوں کو کھڑا نہیں ہونا چاہیئے۔ آغازِ اسلام میں صحابۂ کرا م رضی اللہ عنہم کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ جنازے کو  دیکھ کر کھڑے ہوجائیں ؛ لیکن یہ حکم بعد میں منسوخ ہو گیا تھا۔ [۴]

(۵) جب لوگ جنازے کے ساتھ چلیں، تو جنازے کے پیچھے چلنا مستحب اور زیادہ ثواب کے باعث ہے بنسبت جنازے کے آگے چلنے سے۔ اگر چہ جنازے کے آگے چلنا بھی جائز ہے۔ البتہ اگر سارے لوگ جنازے کے آگے چلیں اور جنازے کو اپنے پیچھے چھوڑیں، تو یہ مکروہ ہوگا۔ [۵]

(۶)  جنازے کے ساتھ چلنے والوں کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ قبرستان پیدل جائیں؛ لیکن اگر کوئی معقول عذر ہو تو سواری سے جانا بھی جائز ہے (مثلاً: قبرستان دور ہو یا کوئی بیمار ہو یا کوئی بوڑھا ہو)۔ اگر لوگ جنازے کو قبرستان پیدل لے کر جاویں، تو جو لوگ سواری سے جانے والے ہیں ان کو جنازے کے پیچھے چلنا چاہیئے۔ ان کے لیے جنازے سے آگے بڑھنا مکروہ ہے۔ [۶]

(۷) جنازے کے ساتھ چلنے والوں کے لیے بلند آواز سے دعا کرنا، ذکر کرنا مکروہ ہے؛ لیکن ان کے لیے بہتر یہ ہے کہ خاموش رہیں یا آہستہ آہستہ دل میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں۔ [7]

(۸) جنازے کے ساتھ چلنے والے دنیوی بات چیت یا ہنسی مذاق سے اجتناب کریں۔ [8]

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=3359


 

[۱] ثم إن في حمل الجنازة شيئين نفس السنة وكمالها أما نفس السنة فهي أن تأخذ بقوائمها الأربع على طريق التعاقب بأن تحمل من كل جانب عشر خطوات وهذا يتحقق في حق الجمع وأما كمال السنة فلا يتحقق إلا في واحد وهو أن يبدأ الحامل بحمل يمين مقدم الجنازة كذا في التتارخانية فيحمله على عاتقه الأيمن ثم المؤخر الأيمن على عاتقه الأيمن ثم المقدم الأيسر على عاتقه الأيسر ثم المؤخر الأيسر على عاتقه الأيسر هكذا في التبيين (الفتاوى الهندية ١/١٦٢)

[۲] (ويعجل به بلا خبب) وهو بمعجمة مفتوحة وموحدتين ضرب من العدو وقيل هو كالرمل وحد التعجيل المسنون أن يسرع به بحيث لا يضطرب الميت على الجنازة للحديث أسرعوا بالجنازة فإن كانت صالحة قربتموها إلى الخير وإن كانت غير ذلك فشر تضعونه عن رقابكم والأفضل أن يعجل بتجهيزه كله من حين يموت ولو مشوا به بالخبب كره لأنه ازدراء بالموت وإضرار بالمتبعين (البحر الرائق ٢/٢٠٦)

[۳] قوله (وجلوس قبل وضعها) أي بلا جلوس لمتبعها قبل وضعها لأنه قد تقع الحاجة إلى التعاون والقيام أمكن منه فكان الجلوس قبله مكروها ولأن الجنازة متبوعة وهم أتباع والتبع لا يقعد قبل قعود الأصل قيد بقوله قبل وضعها لأنهم يجلسون إذا وضعت عن أعناق الرجال (البحر الرائق ٢/٢٠٦)

[٤]  (ولا يقوم من في المصلى لها إذا رآها) قبل وضعها ولا من مرت عليه هو المختار وما ورد فيه منسوخ زيلعي (الدر المختار ٢/٢٣٢)

[۵] الأفضل للمشيع للجنازة المشي خلفها ويجوز أمامها إلا أن يتباعد عنها أو يتقدم الكل فيكره ولا يمشي عن يمينها ولا عن شمالها كذا في فتح القدير (الفتاوى الهندية ١/١٦٢)

[٦] ولا بأس بالركوب في الجنازة والمشي أفضل ويكره أن يتقدم الجنازة راكبا كذا في فتاوى قاضي خان (الفتاوى الهندية ١/١٦٢)

[۷] وعلى متبعي الجنازة الصمت ويكره لهم رفع الصوت بالذكر وقراءة القرآن كذا في شرح الطحاوي فإن أراد أن يذكر الله يذكره في نفسه كذا في فتاوى قاضي خان (الفتاوى الهندية ١/١٦٢)

[۸] ويكره رفع الصوت بالذكر والقرآن وعليهم الصمت … وليحذر عما لا فائدة فيه من الكلام فإن هذا وقت ذكر وموعظة فتقبح فيه الغفلة (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح صـ ٦٠٦)

Check Also

باغِ محبّت(چھٹی قسط)‏

یہ بات مشہور و معرو ف ہے کہ انسان کے اخلاق و عادات اور اس کے افعال، اس کے دل کی کیفیات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اگر کسی کا دل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت سے لبریز ہو...