درود شریف پڑھنے والوں کے لیے مغفرت کی دُعا

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أكثروا الصلاة علي في الليلة الزهراء واليوم الأزهر فإن صلاتكم تعرض علي فأدعو لكم وأستغفر (القربة لابن بشكوال، الرقم: ١٠٧، وسنده ضعيف كما في المقاصد الحسنة، الرقم: ١٤٨)

حضرت عمر بن خطاب  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”روشن رات اور روشن دن میں (جمعہ کی رات اور جمعہ کے دن) مجھ پر خوب درود بھیجا کرو، کیوں کہ تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے پھر میں تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے تمہارے گناہوں کی مغفرت کی دُعا کرتا ہوں۔“

سونے سے پہلے درود شریف پڑھنا

حضرت محمد بن سعید بن مطرّف رضی اللہ عنہ ایک نیک اور متّقی شخص تھے انہوں نے اپنا واقعہ بیان کیا کہ:

میرا معمول تھا کہ میں ہر رات بستر پر لیٹنے سے پہلے ایک خاص تعداد میں درود شریف پڑھا کرتا تھا۔

ایک رات میں اپنے کمرے میں تھا۔ میں نے دورد شریف پڑھنے کا معمول پورا کیا اور لیٹ گیا۔ جوں ہی مجھے نیند آئی، میں نے ایک خواب دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے کمرےمیں داخل ہوئے اور آپ کی روشنی سے پورا کمرہ جگمگا اٹھا۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : ”اپنا منھ میرے قریب لاؤ، جس سے تم بکثرت مجھ پر درود بھیجتے ہو؛ تاکہ میں اس کا بوسہ لوں۔“ مجھے شرم محسوس ہوئی کہ میں اپنا منھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کروں، لہذا میں نے اپنا رخسار آپ کے قریب کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک منھ میرے رخسار پر رکھا اور اس کو چوما۔

اس کے بعد میں فوراً خوشی خوشی بیدار ہوا اور اپنی اہلیہ کو بھی بیدار کیا جو میرے قریب سو رہی تھی۔ بیدار ہونے کے بعد ہم نے اپنا پورا کمرہ مشک کی خوشبو سے معطّر پایا؛ کیونکہ اس کمرے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسدِ اطہر کی خوشبو بس گئی تھی۔ نیز میرے رخسار پر آٹھ دنوں تک مشک کی وہ خوشبو باقی رہی، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بوسہ لینے سے پیدا ہوئی تھی۔ آٹھ دنوں تک ہر دن میری اہلیہ میرے رخسار پر مشک کی خوشبو محسوس کرتی رہیں۔ (الدر المنضود، ص۱۸۷، القول البدیع، ص ۲۸۸)

يَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّم  دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ

Source: https://ihyaauddeen.co.za/?p=16892, http://ihyaauddeen.co.za/?p=5904

Check Also

نمازِ فجر اور مغرب کے بعد سو (۱۰۰) بار درود شریف ‏

تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک شیشی لی اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک پسینہ جمع کرنے لگیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو سوال کیا کہ ”اے ام سلیم یہ تم کیا کر رہی ہو؟“...