حالتِ مصیبت کے احکام

حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ  ارشاد فرمایا:

”حالتِ مصیبت کے احکام حسبِ ذیل ہیں :

(۱) فرمایا کہ حالتِ مصیبت میں ابتلا ہو تو صبر کیا جاوے کہ مومن کی یہی شان ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

إن أصابته سراء شكر، فكان خيرا له، وإن أصابته ضراء، صبر فكان خيرا له

”مومن کی عجیب حالت ہے کہ اگر اس کو کوئی خوشی پہنچتی ہے شکر کرتا ہے اور اگر مصیبت پہنچتی ہے صبر کرتا ہے تو دونوں حالتوں میں نفع رہا۔“

(۲) فرمایا کہ خدا کی رحمت سے مصیبت میں مایوس نہ ہو؛ بلکہ فضل و کرمِ الٰہی کا امید وار رہے؛ کیونکہ اسباب سے فوق بھی تو کوئی چیز ہے تو یاس کی بات وہ کہے جس کا ایمان تقدیر پر نہ ہو۔ اہلِ دین کا طریقہ تو رضا بقضا ہے۔

(۳) مصیبت کی وجہ سے دوسرے احکامِ شرعیہ میں کوتاہی نہ کرے۔

(۴) خدا سے اس مشکل کے آسان کر دینے کی دعا کرتے رہے اور تدابیر میں مشغول رہے؛ مگر تدبیر کو کارگر نہ سمجھے (اور دعا کا حکم اس لیے ہے کہ تدبیر میں بغیر دعا کے برکت نہیں ہوتی)۔

(۵) استغفار کرتے رہو یعنی اپنے گناہوں سے معافی چاہو۔

(۶) اگر مصیبت ہمارے کسی بھائی مسلمان پر نازل ہو تو اس کو اپنے اوپر نازل سمجھا جاوے اس کے لیے ویسی ہی تدبیر کی جائے جیسا کہ اگر اپنے اوپر مصیبت نازل ہوتی تو اس وقت خود کرتے۔“ (ملفوظاتِ حکیم الامت،ج۲۳ ،ص۱۷۵)

Source: https://ihyaauddeen.co.za/?p=14136


 

Check Also

سب سے زیادہ قابل نفرت چیز تکبّر ہے

سب سے زیادہ نفرت کی چیز میرے ذہن میں تکبر ہے اتنی نفرت مجھے کسی گناہ سے نہیں جتنی اس سے ہے۔ یوں اور بھی بڑے بڑے گناہ ہیں جیسے زنا۔شرب خمر وغیرہ؛ لیکن۔۔۔