باغِ محبّت(تیسری قسط)

 

بسم الله الرحمن الرحيم

جنت کی ملکہ

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے چھوٹی اور سب سے پیاری صاحبزادی تھیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر میں جانے سے پہلے جس انسان سے سب سے آخر میں ملاقات کرتے تھے اور سفر سے واپسی پر جس انسان سے سب سے پہلے ملاقات کرتے تھے وہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خوش خبری دی تھی کہ ”تم جنّت کی ساری عورتوں کی ملکہ بنوگی“۔ (بخاری شریف)

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا بلند مقام و مرتبہ سمجھنے کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا کی تمام عورتوں میں سے سب سے افضل بنایا اور آخرت میں ان کو منتخب کر کے جنّت کی ساری عورتوں کی ملکہ ہونے کا شرف عطا فرمایا ہے۔ اگر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی زندگی پر نظر ڈال لیا جائے، تو ان کی حیاتِ طیّبہ کا ہر پہلو درخشاں، مبارک اور قابلِ تقلید نظر آئے گا اور ان کی مبارک زندگی میں اس امّت کی خواتین کے لیے بے شمار ہدایات و اسباق ہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی حیاتِ طیّبہ کا ایک مبارک پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی پوری زندگی اسلام کی روشن تعلیمات کے مطابق گزارتی تھیں، وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرماں برداری پر چلتی تھیں اور تقوی و طہارت سے لازم پکڑتی تھیں۔ اسی طرح وہ اپی زندگی کی تمام شعبوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو زندہ کرتی تھیں اور خاص طور پر وہ پردہ کا بہت اہتمام کرتی تھیں کہ وہ اپنے آپ کو اجنبی مردوں کی نگاہوں سے ہر وقت بچائے رکھے۔

ایک مرتبہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے سوال کیا کہ عورتوں کے لیے کونسی چیز سب سے بہتر ہے ان کے دین کے لیے ؟ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر پہونچے، تو انہوں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سوال حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سامنے پیش کیا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فوراً جواب دیا کہ عورتوں کے لیے سب سے بہترین چیز یہ ہے کہ وہ اجنبی مردوں کو نہ دیکھیں اور اجنبی مرد ان کو نہ دیکھیں۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا یہ جواب ذکر کیا، تو آپ بہت مسرور ہوئے اور ارشاد فرمایا: ”فاطمہ میرے بدن کا ٹکڑا ہے“۔ (مجمع الزوائد، کنزالعمال)

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا “پردہ” کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کو بہت زیادہ اہمیّت دیتی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک ہر موقع پر پردہ کا پورے طورپر خیال رکھا اور کبھی بھی اپنے آپ کو اجنبی مردوں کے سامنے ظاہر نہیں کیا۔ انہوں نے پردہ کا اتنا زیادہ اہتمام فرمایا کہ انہوں نے اپنی وفات سے قبل حضرت اسماء بنت عُمیس رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ میں اس کو بہت خراب سمجھتی ہوں کہ موت کے بعد عورتوں کے جسموں پر ایک کپڑا ڈالا جاتا ہے، جس سے ان کے جسموں کی ہیئت ان مردوں کو نظر آتی ہے، جو جنازہ اٹھاتے ہیں۔ حضرت اسماء بنت عُمیس رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی! کیا میں تمہیں ایک طریقہ نہ بتاؤں، جو میں نے حبشہ میں دیکھا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کھجور کی کچھ ٹہنیاں منگوائیں اور ان سے فریم کی شکل بنا کر اس پر کپڑا ڈال دیا (اس طریقہ پر عمل کرنے سے مرحومہ کا جسم پورے طور پر چُھپ جاتا ہے)۔ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ دیکھا، تو فرمایا: (اے اسماء) اللہ تعالیٰ تمہاری عیوب کی پردہ پوشی فرمائے، کیوں کہ تو نے میری اس سلسلہ میں مدد کی کہ اور مجھے بتایا کہ کیسے میرا جنازہ میری وفات کے بعد مردوں کی نظروں سے چھپایا جائے۔ (اُسد الغابہ)

اس واقعہ سے یہ اچھی طرح ظاہر ہے کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا پردہ کا کتنا زیادہ اہتمام فرماتی تھیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے یہ بھی برداشت نہیں کیا کہ کوئی مرد انتقال کے بعد بھی ان کے بدن کی ہیئت کو دیکھے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ امّت محمدیہ کی عورتوں کو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=16360


Check Also

میّت کی تدفین کا طریقہ ‏

میّت کو قبلے کی طرف سے لایا جائے اور قبر میں اِس طرح اُتارا جائے کہ میّت کو اُتارنے والے قبر میں قبلہ کی طرف رُخ کر کے کھڑے ہوں۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کو اِسی طرح دفن فرماتے تھے...