اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمت کا حصول

عن ابن عمر وأبي هريرة رضي الله عنهم قالا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم صلوا علي صلى الله عليكم (الكامل لابن عدي، الرقم: ۱۱٠۸٦، وإسناده ضعيف كما في التيسير للمناوي ۲/۹۳)

حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر درود بھیجو، اللہ تعالیٰ تم پر درود (رحمت) بھیجیں گے۔

درود شریف کثرت سے پڑھنا

حضرت حافظ ابو نعیم رحمہ اللہ نقل کرتے ہیں کہ حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ نے اپنا ایک واقعہ بیان کیا کہ

میں ایک مرتبہ اپنے گھر سے نکل رہا تھا کہ میری نگاہ ایک نوجوان پر پڑی، جو ہر قدم پر اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ پڑھ رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا : کیا تمہارے اس عمل کا کوئی ثبوت ہے (یا یہ کہ تم  یہ اپنی طرف سے پڑھ رہے ہو) ؟ اس نے سوال کیا : آپ کون ہیں؟ میں نے جواب دیا : سفیان ثوری۔ اس نے پوچھا : کیا آپ عراق کے سفیان ہیں؟ میں نے کہا : ہاں۔

 اس نے دریافت کیا: کیا آپ کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہے؟ میں نے اثبات میں جواب دیا، تو اس  نے پوچھا : آپ نے اللہ تعالیٰ کو کیسے پہچانا ؟ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ رات کو دن سے نکالتا ہے اور دن کو رات سے نکالتا ہے اور بچہ کو رحمِ مادر میں شکل و صورت عطا کرتا ہے۔ اس نے کہا : آپ نے اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت حاصل نہیں کی۔

 پھر میں نے سوال کیا : تو تم نے اللہ تعالیٰ کو کیسے پہچانا ؟ اس نے جواب دیا : میں کسی کام کا پختہ ارادہ کرتا ہوں، مگر مجھ سے پورا نہیں ہوتا (یعنی میں کوئی چیز کرنا چاہتا ہوں، مگر قدرت ہونے کے باوجود اس کو پورا نہیں کر سکتا)۔ اس سے میں نے پہچانا کہ کوئی اور قدرت ہے (یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت)، جس کے ہاتھ  میں میرے ہر کام کی باگ دوڑ ہے۔

اس کے بعد میں نے اس سے پوچھا کہ تم ہر قدم پر درود شریف کیوں پڑھ رہے ہو، تو اس نے کہا کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ حج کے لیے جا رہا تھا ؛ لیکن میری والدہ راستے ہی میں انتقال کر گئیں۔ ان کے انتقال کے بعد ان کا چہرہ کالا ہوگیا اور پیٹ پھول گیا۔ یہ دیکھ کر میں نے سمجھا کہ میری والدہ نے اپنی زندگی میں کسی سنگین گناہ کا ارتکاب کیا ہوگا جس کی وجہ سے ان کے ساتھ یہ ہو گیا۔

تو فوراً میں نے آسمان کی طرف دعا کرنے کے لیے ہاتھ اٹھایا ؛ لیکن جوں ہی دُعا کے لیے آسمان کی طرف ہاتھ اُٹھایا، تو میں نے دیکھا کہ “تہامہ” (حجاز) کی طرف سے ایک بادل آ رہا ہے، جس سے ایک شخص نمودار ہوا، اس نے اپنا ہاتھ  میری والدہ کے چہرہ پر پھیرا، تو چہرہ روشن ہوگیا پھر اس نے ان کے پیٹ پر ہاتھ پھیرا، تو پیٹ کی سوجن ختم ہو گئی۔

میں نے اس شخص سے پوچھا : آپ کون ہیں؟  آپ نے میری والدہ کی اور میری بڑی مصیبت دور کر دی۔ انہوں نے جواب دیا : میں تمہارا رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔

میں نے آپ سے درخواست کی کہ کچھ نصیحت کیجیے، تو آپ نے فرمایا : ہر قدم پر ” اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ “ پڑھا کرو۔ (در المنضود، ص ۲۴۶)

يَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّم  دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ

Check Also

نمازِ فجر اور مغرب کے بعد سو (۱۰۰) بار درود شریف ‏

تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک شیشی لی اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک پسینہ جمع کرنے لگیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو سوال کیا کہ ”اے ام سلیم یہ تم کیا کر رہی ہو؟“...