درود شریف پڑھنے والے کے لیے آتشِ دوزخ اور نفاق سے آزادی کا پروانہ

عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: من صلى علي صلاة واحدة صلى الله عليه عشرا ومن صلى علي عشرا صلى الله عليه مائة ومن صلى علي مائة كتب الله له بين عينيه براءة من النفاق وبراءة من النار وأسكنه الله يوم القيامة مع الشهداء (المعجم الصغير للطبراني، الرقم: ٨٩٩، وقال الهيثمي في  مجمع الزوائد (الرقم: ١٨٢٩٨): رواه الطبراني في الصغير والأوسط وفيه إبراهيم بن سالم بن شبل الهجيمي ولم أعرفه وبقية رجاله ثقات، وقال المنذري في الترغيب والترهيب (الرقم: ۲۵٦٠): وفي إسناده إبراهيم بن سالم بن شبل الهجعي لا أعرفه بجرح ولا عدالة)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر دس بار درود بھیجتے ہیں اور جو مجھ پر دس بار درود بھیجتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس پر سو بار درود بھیجتے ہیں اور جو مجھ پر سو بار درود بھیتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کی آنکھوں کے درمیان نفاق اور آتشِ دوزخ سے براءت (آزادی) لکھ دیتے ہیں اور اس کو قیامت کے دن شہیدوں کے ساتھ ٹھرائیں گے (شہیدوں کا مقام عطا کریں گے)۔

درخت کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم  کو سلام کرنا

حضرت یعلیٰ بن مرّہ ثقفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ دورانِ سفر ہم نے ایک جگہ  قیام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ آرام فرمانے لگے۔ کچھ دیر کے بعد ایک درخت زمین کو چیرتا ہوا آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سایہ میں ڈھانپ لیا، پھر وہ اپنی جگہ واپس چلا گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم  بیدار ہوئے، تو میں نے یہ تعجب خیز  واقعہ بیان کیا، تو آپ نے فرمایا کہ اس درخت نے اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کی تھی تاکہ وہ میرے پاس آکر سلام کرے، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو اجازت دی (کہ وہ میرے پاس آئے اور مجھے سلام کرے)۔ (مسند احمد)

يَا رَبِّ صَلِّ وَ سَلِّم  دَائِمًا أَبَدًا عَلَى حَبِيبِكَ خَيرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ

Check Also

نمازِ فجر اور مغرب کے بعد سو (۱۰۰) بار درود شریف ‏

تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک شیشی لی اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک پسینہ جمع کرنے لگیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو سوال کیا کہ ”اے ام سلیم یہ تم کیا کر رہی ہو؟“...