نمازِ جنازہ میں دیر سے آنا

(۱) اگر کوئی شخص نمازِ جنازہ میں اتنی دیر سے پہونچے کہ امام صاحب ایک یا ایک سے زائد تکبیریں  مکمل کر چکے ہوں، تو ایسے آدمی کو “مسبوق” (تاخیر سے پہونچنے والا) کہا جائےگا۔

مسبوق کا حکم یہ ہے کہ وہ تکبیر کہے اور فوراً نماز میں شامل ہو جائے۔ واضح رہے کہ اس کی یہ تکبیر “تکبیرِ تحریمہ” ہوگی۔ پھر اگر اس کو یہ معلوم ہو کہ امام نے کونسی تکبیر کہی ہے، تو وہ وہی پڑھےگا، جو امام پڑھ رہے ہوں گے (مثلاً اگر اس کو معلوم ہو کہ یہ امام کی دوسری تکبیر ہے، تو وہ درود پڑھےگا اور اگر اس کو معلوم ہو کہ یہ تیسری تکبیر ہے تو وہ دُعا پڑھےگا)؛ ورنہ وہ شروع سے (ثنا سے) پڑھےگا اور جب امام جنازہ نماز مکمل کر لے اور سلام پھیر لے، تو وہ امام کے ساتھ سلام نہیں پھیرےگا؛ بلکہ وہ فوت شدہ تکبیریں کہےگا اور اس کے بعد سلام پھیرےگا۔ اگر ہر فوت شدہ تکبیر کے بعد درود اور دُعا پڑھنا چاہے، تو جائز ہے بشرطیکہ میّت کو وہاں سے اٹھایا نہ جائے۔ اگر اس کو یہ اندیشہ ہو کہ میّت کو اٹھا لیا جائےگا، تو وہ صرف تکبیریں کہے اور سلام پھیر لے۔ [۱]

(۲) اگر کوئی نمازِ جنازہ میں امام کی چوتھی تکبیر کہنے کے بعد پہونچے، تو اس کو چاہیے کہ فوراً تکبیر کہہ کر نماز میں شامل ہو جائے اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد جلدی سے فوت شدہ تکبیریں کہے(یعنی میّت کے اٹھائے جانے سے پہلے) اور پھر سلام پھیرے۔ [۲]

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=1881


 

[۱] (والمسبوق) ببعض التكبيرات لا يكبر في الحال بل (ينتظر) تكبير (الإمام ليكبر معه) للافتتاح لما مر أن كل تكبيرة كركعة، والمسبوق لا يبدأ بما فاته وقال أبو يوسف : يكبر حين يحضر (كما لا ينتظر الحاضر) في (حال التحريمة) بل يكبر اتفاقا للتحريمة، لأنه كالمدرك ثم يكبران ما فاتهما بعد الفراغ نسقا بلا دعاء إن خشيا رفع الميت على الأعناق وما في المجتبى من أن المدرك يكبر الكل للحال شاذ نهر (فلو جاء) المسبوق (بعد تكبيرة الإمام لرابعة فاتته الصلاة) لتعذر الدخول في تكبيرة الإمام وعند أبي يوسف يدخل لبقاء التحريمة، فإذا سلم الإمام كبر ثلاثا كما في الحاضر وعليه الفتوى، ذكره الحلبي وغيره

قال العلامة ابن عابدين – رحمه الله -: (قوله: وعليه الفتوى) أي على قول أبي يوسف في مسألة المسبوق خلافا لما مشى عليه في المتن (رد المحتار ٢/٢١٧)

 انظر أيضا أحسن الفتاوى ٤/٢٠١

[۲] وإن كان مع الإمام فتغافل و لم يكبر معه أوكان في النية بعد فأخر التكبير فإنه يكبر و لا ينتظر تكبير الإمام الثانية (رد المحتار ٢/٢١٦)

Check Also

باغِ محبّت(چھٹی قسط)‏

یہ بات مشہور و معرو ف ہے کہ انسان کے اخلاق و عادات اور اس کے افعال، اس کے دل کی کیفیات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اگر کسی کا دل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبّت سے لبریز ہو...