نکاح کا مقصد

شریعت نے نکاح کو مشروع کیا تاکہ زوجین ایک دوسرے کے ساتھ پاکیزہ زندگی گزار سکیں اور تاکہ دونوں اللہ تعالیٰ کے حقوق اور حقوقِ زوجیّت پورا کرنے میں ایک دوسرے کا تعاون کر سکیں۔

لہذا نکاح کے وقت زوجین کو چاہیئے کہ وہ یہ نیّت کریں کہ وہ شادی کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اور وہ دونوں شریعت کے احکام کے اوپر عمل پیرا ہوں گے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت کے مطابق زندگی گزاریں گے۔ اگر زوجین اس طرح زندگی گزاریں گے، تو امید ہے کہ نکاح نیک اولاد اور چہار گوشۂ عالم میں دینِ اسلام کی نشر و اشاعت کا ذریعہ بنےگا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان زوجین کے لیے مخصوص دعا کی ہے، جو دینی امور کو انجام دینے میں ایک دوسرے کا تعاون کریں۔ ایک حدیث شریف میں وارد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے آدمی پر رحم فرمائے جو رات میں اٹھے، نماز ادا کرے اور اپنی بیوی کو بیدار کرے(تاکہ وہ بھی نماز ادا کرے) اور اگر وہ بیدار نہ ہو جائے، تو وہ اس کے چہرہ پر(وہ پیار سے) پانی چھڑکے(تاکہ وہ بیدار ہوجائے)۔ نیز اللہ تعالیٰ ایسی عورت پر رحم فرمائے، جو رات میں اٹھے، نماز ادا کرے اور اپنے خاوند کو بیدار کرے(تاکہ وہ بھی نماز ادا کرے) اور اگر وہ بیدار نہ ہو جائے، تو وہ اس کے چہرہ پر(وہ پیار سے) پانی چھڑکے(تاکہ وہ بیدار ہو جائے)۔[۱]

دوسری حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک مرتبہ صحابۂ کرام  رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ اگر ہمیں  معلوم ہو جاوے کہ کونسی دولت افضل ہے، تو ہم ضرور اس کو حاصل کریں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : بہترین دولت (۱) وہ زبان ہے جو ذکر اللہ میں مشغول ہو اور (۲) وہ دل جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرے اور (۳) وہ بیوی جو ایمان میں پختہ ہے اور دینی امور میں خاوند کی مدد کرے۔ [۲]


 

[۱] سنن أبي داود، الرقم: ۱۳٠۸ ، وقال المنذري في مختصر سنن أبي داود، الرقم: ۱٤۵٠ : وأخرجه النسائي وابن ماجة وفي إسناده محمد بن عَجلان وقد وثقه الإمام أحمد ويحيى بن معين وأبو حاتم الرازي واستشهد به البخاري وأخرج له مسلم في المتابعة وتكلم فيه بعضهم

[۲] سنن الترمذي، الرقم: ۳٠۹٤، وقال: هذا حديث حسن

Check Also

نکاح اور ولیمہ کی سنتیں اور آداب

شریعت نے میاں بیوی میں سے ہر ایک کو الگ الگ ذمہ داریاں دی ہے، شریعت نے دونوں کو الگ ذمہ داریوں کا مکلف اس وجہ سے بنایا، کیونکہ مرد اور عورت مزاج اور فطرت کے اعتبار سے مختلف ہیں؛ لہذا دونوں کا فرضِ منصبی ایک نہیں ہو سکتا ہے...