تلکیف کا باعث نہ بننا

حضرت شیخ مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ نے ایک مرتبہ کسی کو نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

اس زمانہ میں درود شریف اور استغفار کی کثرت رکھی جاوے اور اس کی کوشش کی جاوے کہ کسی رفیق(یا کسی انسان کو) کو میری طرف سے تکلیف نہ پہنچے اور اگر کسی کی طرف سے حق تلفی اور تعدّی ہو تو اس پر التفات نہ کیاجاوے(بلکہ معاف کر دے)۔ ان شاء اللہ یہ بہت زیادہ ترقّی کا سبب ہوگا۔ (قطب الاقطاب حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمہ اللہ، ج -۱، ص۳۷۹)

Source: https://ihyaauddeen.co.za/?p=7620


 

Check Also

تبلیغِ دین میں محنت

”لوگوں کو دین کی طرف لانے اور دین کے کام میں لگانے کی تدابیر سوچا کرو (جیسے دنیا والے اپنے دنیاوی مقاصد کے لیے تدبیریں سوچتے رہتے ہیں) اور جس کو جس طرح سے متوجہ کر سکتے ہو اس کے ساتھ اسی راستہ سے کوشش کرو۔“...