سُوْرَةُ الضُّحٰی کی تفسیر

بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ

وَ الضُّحٰی ۙ﴿۱﴾ وَ الَّیۡلِ  اِذَا سَجٰی ۙ﴿۲﴾ مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی ؕ﴿۳﴾ وَ لَلۡاٰخِرَۃُ  خَیۡرٌ لَّکَ مِنَ الۡاُوۡلٰی ؕ﴿۴﴾ وَ لَسَوۡفَ یُعۡطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرۡضٰی ؕ﴿۵﴾ اَلَمۡ  یَجِدۡکَ یَتِیۡمًا فَاٰوٰی ۪﴿۶﴾ وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی ۪﴿۷﴾ وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغۡنٰی ؕ﴿۸﴾ فَاَمَّا  الۡیَتِیۡمَ  فَلَا تَقۡہَرۡ ؕ﴿۹﴾ وَ اَمَّا السَّآئِلَ  فَلَا تَنۡہَرۡ ﴿ؕ۱۰﴾ وَ اَمَّا بِنِعۡمَۃِ  رَبِّکَ  فَحَدِّثۡ ﴿۱۱﴾

قسم ہے دن کی روشنی کی ﴿۱﴾ قسم ہے رات کی جب وہ  قرار پکڑ لے(پر سکون ہو جائے) ﴿۲﴾ آپ کے پروردگار نے نہ  آپ کو چھوڑا اور نہ آپ سے بیزار (ناراض) ہوا ﴿۳﴾ اور یقیناً  آخرت آپ کے لیے آپ کی موجودہ (زندگی) سے بہت بہتر ہے ﴿۴﴾ اور عنقریب  آپ کا رب آپ کو (بکثرت نعمتیں) دےگا، تو آپ خوش ہو جائیں گے ﴿۵﴾ کیا انہوں نے (اللہ تعالیٰ نے) آپ کو یتیم نہیں پایا، پھر ٹھکانہ دیا ﴿۶﴾ اور آپ کو بے خبر پایا پھر راستہ بتلایا ﴿۷﴾ اور آپ کو  محتاج پایا، پھر مال دار بنا دیا ﴿۸﴾ تو آپ یتیم پر سختی مت کیجیے ﴿۹﴾ اور سائل (مانگنے والے) کو مت جھڑکیے ﴿۱۰﴾ اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتے رہیے ﴿۱۱﴾

تفسیر

ابتدائے اسلام میں جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں تھے چند دنوں تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کا سلسلہ موقوف ہو گیا، تو کچھ کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ طعنہ دینا شروع کر دیا کہ تمہارا رب تم سے ناراض ہو گیا ہے؛ اس لیے اب تمارے پاس ان کی طرف سے وحی نہیں آ رہی ہے۔

اس طرح کے طعنوں اور دل خراش باتوں کو سن کر یقیناً انسان تکلیف اور درد محسوس کرتا ہے؛ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ پر کامل یقین اور اعتماد تھا کہ اللہ تعالیٰ نے نہ تو ان کو چھوڑا ہے اور نہ ان سے ناراض ہے پھر بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تسلّی کے لیے اور امّت کی تعلیم کے لیے اللہ تعالیٰ نے مذکورہ سورت نازل فرمائی اور اس میں بیان فرمایا کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے مقرّب بندے ہیں اور کچھ مصائب و آلام سے دو چار ہیں، انہیں ایک لمحہ کے لیے بھی یہ نہیں سوچنا چاہیئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو چھوڑ دیا ہے یا ان سے ناراض ہو گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ اس سورت کو شروع کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

وَ الضُّحٰی ۙ﴿۱﴾

قسم ہے دن کی روشنی کی ﴿۱﴾

وَ الَّیۡلِ  اِذَا سَجٰی ۙ﴿۲﴾

قسم ہے رات کی جب وہ  قرار پکڑ لے(پر سکون ہو جائے) ﴿۲﴾

مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَ مَا قَلٰی ؕ﴿۳﴾

آپ کے پروردگار نے نہ  آپ کو چھوڑا اور نہ آپ سے بیزار (ناراض) ہوا ﴿۳﴾

ان آیاتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دن کی روشنی پر اور رات پر قسم کھائی (جب کہ وہ پر سکون ہو جائے)۔ اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ انسان پر مختلف حالات آئیں گے، جس طرح رات کی ظلمت اور تاریکی کے بعد دن کی روشنی آتی ہے، اسی طرح سختی اور پریشانی کے بعد آسانی آئے گی۔

چناں چہ اگر کسی پر سخت حالات آئیں اور وہ آزمائش میں مبتلا ہو، تو وہ ہرگز یہ نہ سوچے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو چھوڑ دیا ہے اور اس سے ناراض ہوگیا ہے؛ بلکہ وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف متوجّہ ہو اور ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کی اطاعت و فرماں برداری میں لگا رہے۔

وَ  لَلۡاٰخِرَۃُ  خَیۡرٌ لَّکَ مِنَ الۡاُوۡلٰی ؕ﴿۴﴾

اور یقیناً آخرت آپ کے لیے (اے محمدصلی اللہ علیہ وسلم) آپ کی موجودہ (دنیوی) زندگی سے بہت بہتر ہے﴿۴﴾

اس آیتِ کریمہ سے مراد یہ ہے کہ آخرت کی زندگی آپ کے لیے دنیا کی زندگی سے بہتر ہے اور اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ کی دنیوی زندگی میں ہر آنے والی حالت پچھلی حالت سے بہتر اور افضل ہوتی چلی جائے گی۔ یعنی اس میں آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے خصوصی بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو علوم و معارف اور اپنے قرب کے درجات میں ترقّی عطا فرمائیں گے اور اس میں آپ  کے لیے دنیوی زندگی کے معاشی مسائل اور عزت و حکومت میں ترقّی کی طرف بھی اشارہ ہے۔

جیسے اس آیت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خصوصی بشارت ہے، اسی طرح ہر نیک مؤمن کے لیے ہمّت افزائی ہے کہ اس کو  خدا تعالیٰ کی خصوصی رحمت کا ہر وقت امید وار رہنا چاہیئے۔

اگر مؤمن اپنی زندگی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنّت کی  اتّباع کرے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرے، تو اس کی زندگی میں ہر آنے والا لمحہ پچھلی زندگی سے بہتر اور اچھا ہوگا، کیوں کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ مسلسل اس کے علم و عمل، عقل و شعور، عزّت و احترام اور دیگر امور میں اضافہ فرمائیں گے اور اس کو ترقّی عطا کریں گے؛ لہذا اگر مؤمن پر کوئی مصیبت و پریشانی آئے، تو اس کو چاہیئے کہ رنجیدہ اور غمگین نہ ہو، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی امید رکھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے۔

وَ  لَسَوۡفَ یُعۡطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرۡضٰی ؕ﴿۵﴾

اور عنقریب آپ کا رب آپ کو (بہت زیادہ) نعمتیں دےگا، تو آپ خوش ہو جائیں گے ﴿۵﴾

اس آیتِ کریمہ میں حق تعالیٰ نے بتلایا کہ آپ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی مرغوب چیزیں دیں گے کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔ آپ کی مرغوب چیزوں میں دینِ اسلام کی ترقّی، دینِ اسلام کا پوری دنیا میں پھیلنا، آپ کا اپنے دشمنوں پر غالب آنا، سب اس میں داخل ہیں۔

حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا :

إِذًا وَاللَّهِ لَا أَرْضَى وَوَاحِدٌ مِنْ أُمَّتِي فِي النَّارِ

یعنی جب یہ بات ہے تو میں اس وقت تک راضی نہ ہونگا جب تک میری امت میں سے ایک آدمی بھی جہنّم میں رہےگا۔

اس جملہ سے ہم اس بات کا اچھی طرح اندازہ لگا سکتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں اپنی امّت کی محبّت کتنی زیادہ ہے، یہاں تک کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امّت کا ایک فرد بھی آتشِ دوزخ میں جل رہا ہوگا، تو آپ خوش نہیں ہوں گے۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہیئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں اپنی امّت کی محبّت اتنی زیادہ ہے کہ آپ کی یہ دلی آرزو ہے کہ اپنی امّت کے ہر ہر فرد کو جنّت میں دیکھیں۔ چناں چہ قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے سفارش فرمائیں گے کہ ان کی امّت کے ہر ہر فرد کو جنّت میں داخل کیا جائے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امّت سے بے پناہ محبّت فرماتے ہیں۔ ان کی محبّت کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم بھی ہمہ وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبّت و و فاداری کا اظہار کریں۔ اس سلسلہ میں دو چیزیں انتہائی اہم اور ضروری ہیں:

پہلی چیز یہ ہے کہ ہم کو چاہیئے کہ زندگی کے تمام امور میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کریں اور جن چیزوں اور کاموں سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم خوش نہیں تھے اور ہمیں ان سے روکا، تو ہم ان چیزوں اور کاموں سے بالکل اجتناب کریں۔ اسی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری وفاداری اور قدردانی کا اظہار ہوگا۔

دوسری چیز یہ ہے کہ ہم کثرت سے درود شریف پڑھیں۔ خاص طور پر ہم جمعہ کے دن زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھنے کا اہتمام کریں۔ ہمارا یہ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک میں فرحت و خوشی کا باعث ہوگا۔

اَلَمۡ  یَجِدۡکَ یَتِیۡمًا فَاٰوٰی ۪﴿۶﴾

کیا انہوں نے (اللہ تعالیٰ نے) آپ کو یتیم نہیں پایا، پھر ٹھکانہ دیا ﴿۶﴾

رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم یتیم پیدا ہوئے تھے، کیوں کہ آپ کے والد ماجد آپ کی ولادت سے قبل انتقال فرما چکے تھے۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھ سال کے ہوئے، تو والدہ محترمہ بھی اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئیں۔ پھر آپ کے دادا عبد المطلب نے آٹھ سال کی عمر تک آپ کی پرورش کی، جب دادا کا انتقال ہو گیا، تو آپ کے چچا ابو طالب نے پچاس سال کی عمر تک آپ کا ہر اعتبار سے خیال رکھا اور ہر طریقہ سے آپ کی نصرت و حمایت کی۔

ابو طالب کے دل میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتنی محبت و الفت تھی کہ جو کسی بھی والد کی محبت سے کہیں زیادہ تھی۔ مزید برآں یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم تھا کہ جنہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی یا آپ سے تعلق رکھا، تو ان کے دل میں آپ کی محبت پیوست ہو گئی۔ تو اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی انعام اور احسان کا ذکر فرمایا جو آپ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا۔

وَ وَجَدَکَ ضَآلًّا فَہَدٰی ۪﴿۷﴾

اور آپ کو بے خبر پایا پھر راستہ بتلایا ﴿۷﴾

نبوّت سے قبل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شریعت کی تفصیلات سے ناواقف تھے۔ اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے آپ کو نبّوت سے سرفراز فرمایا اور آپ کو دین کے تمام علوم سے آگاہ کیا اور نوازا جس کے ذریعہ آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف رہنمائی فرمائے۔

وَ وَجَدَکَ عَآئِلًا فَاَغۡنٰی ؕ﴿۸﴾

اللہ تعالیٰ نے آپ کو محتاج پایا، تو (آپ کو) مال دار بنا دیا۔ ﴿۸﴾ 

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ سلم کو خطاب فرماتے ہوئے اپنی نعمت یاد دلا رہے ہیں کہ آپ یتیم تھے، آپ کے پاس کوئی دولت نہیں تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو دولت عطا فرمائی اور آپ کو فقر و غربت سے نکال کر غنی اور مالدار بنا دیا۔

فَاَمَّا  الۡیَتِیۡمَ  فَلَا تَقۡہَرۡ ؕ﴿۹﴾

تو آپ یتیم پر سختی مت  کیجیے ﴿۹﴾

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیمی کی زندگی گزاری تھی؛ لہذا آپ کو ان احساسات و جذبات کا اچھی طرح علم تھا، جو ایک یتیم کے ذہن و دماغ اور دل میں آتے  رہتے ہیں۔ عام طور پر لوگ یتیموں کی خبر گیری نہیں کرتے ہیں اور ان کے ساتھ شفقت و محبت کا برتاؤ نہیں کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ سبحابہ و تعالیٰ نے یتیموں کی دیکھ بھال اور پرورش کرنے والوں کے لیے اجرعظیم کا وعدہ فرمایا ہے۔

ایک حدیث شریف میں وارد ہے کہ مسلمانوں کے گھروں میں سے بہترین گھر وہ ہے جس میں یتیم بچہ ہو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک و برتاؤ کیا جائے اور مسلمانوں کے گھروں میں سے بدترین گھر وہ ہے جس میں یتیم بچہ ہو اور اس کے ساتھ بدسلوکی کی جائے۔

وَاَمَّا السَّآئِلَ فَلَا تَنۡہَرۡ ﴿ؕ۱۰﴾

اور سائل (مانگنے والے) کو مت جھڑکیے ﴿۱۰﴾

اس آیتِ کریمہ میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرما رہے ہیں کہ اگر آپ کے پاس کوئی سائل آئے، تو اس کو نہ جھڑکیے اور اس کا خیال رکھیے۔ آپ کے اس طرزِعمل کو دیکھ کر آپ کی امّت بھی غریبوں اور تنگ دستوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گی اور ان کا خیال رکھےگی۔

وَاَمَّا بِنِعۡمَۃِ رَبِّکَ  فَحَدِّثۡ ﴿۱۱﴾

اور اپنے رب کی نعمتوں کو بیان کرتے رہیے ﴿۱۱﴾

اس آیتِ کریمہ میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب فرماتے ہوئے حکم دے رہے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا تذکرہ کرتے رہا کریں۔

اس سے معلوم ہوا کہ جو نعمتیں اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرمائی، تو اس کے لیے ان نعمتوں کا تذکرہ کرنا لوگوں کے سامنے جائز ہے۔ بشرطیکہ وہ فخر نہ کرے اور نہ ہی ان انعامات و احسانات کو اپنا ذاتی کمال سمجھے؛ بلکہ ان کو محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم سمجھے۔

Check Also

سورۃ القدر ‎کی تفسیر

بے شک ہم نے قرآن کو شبِ قدر میں اُتارا ہے ﴿۱﴾ اور آپ کو کچھ معلوم ہے کہ شبِ قدر کیسی چیز ہے ﴿۳﴾ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے ﴿۴﴾...