اللہ تعالیٰ کا مخلوق کے ساتھ معاملہ

(۱) اللہ رب العزت اپنے بندوں پر بےحد مہربان ہیں۔ اپنے بندوں سے بے انتہا محبت کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ نہایت حلیم اور بردبار ہیں۔ گناہوں کو بخشنے والے ہیں اور توبہ قبول کرنے والے ہیں۔ [۱]

(۲) اللہ تعالیٰ انتہائی عادل اور پورے طور پر انصاف کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی مخلوق پر ذرّہ برابر ظلم نہیں کرتے ہیں۔ [۲]

(۳) اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو عقل و فہم نصیب فرمائی اور اس کو اچھائی اور برائی کے درمیان تمییز کرنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان مؤمنین سے راضی ہوتے ہیں، جو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے نیک اعمال کرتے ہیں اور ان لوگوں سے ناراض ہوتے ہیں، جو گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ [۳]

(۴) اللہ تعالیٰ کے لیے کامل عزت و عظمت ہے۔ اللہ تعالیٰ مختارِ کُل اور قادرِ مُطلق ہیں۔ کسی کی مجال نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ میں دخل دے۔ عزت و ذلت کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔ وہ کسی کے سامنے کسی چیز کے جواب دہ نہیں ہیں۔ [۴]

(۵) اللہ تعالیٰ ہی رازق ہیں۔ وہی تمام مخلوق کو روزی دینے والے ہیں۔ وہ جس کو چاہتے ہیں، زیادہ رزق دیتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں، کم رزق دیتے ہیں۔ [۵]

(۶) اللہ تعالیٰ کے ہر فیصلہ میں حکمت پوشیدہ ہوتی ہے؛ اگر چہ انسان اس حکمت کا ادراک کرنے سے قاصر و عاجز ہو۔ لہذا ہر بندے کو ہمہ وقت اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر راضی رہنا چاہیئے۔ [۶]

(۷) ہر چیز اللہ تعالیٰ کے حکم اور مشیّت کے تابع ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکم اور مشیّت کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو سکتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک ذرّہ بھی اللہ تعالیٰ کی اجازت بغیر حرکت نہیں کر سکتا ہے۔ [۷]

(۸) اللہ تعالیٰ پر کوئی بھی چیز واجب و ضروری نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا مخلوق پر مہربان ہونا محض ان کا فضل و کرم ہے اور ان کی شفقت و ہمدردی ہے۔ [۸]

(۹) اللہ تعالیٰ نے ہمیں کسی بھی ایسے کام کا مکلّف نہیں بنایا ہے، جس کے بجا لانے پر ہم قادر نہ ہوں۔ [۹]

(۱۰) دنیا میں جو بھی خیر یا شر واقع ہوتا ہے، وہ پہلے ہی سے اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ جو بھی خیر یا شر دنیا میں واقع ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مشّیت سے ہوتا ہے۔ اسی کو “تقدیر “ کہا جاتا ہے۔ [۱۰]

Source:


 

[۱]  وَرَحْمَتىْ وَسِعَتْ كُلَّ شَىءٍ (سورة الاعراف: ۱۵٦)

إِنَّ اللّٰـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِيْعًا ۚ  إِنَّهُ هُوَ الغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ  (سورة الزمر: ۵۳)

(ويغفر ما دون ذلك لمن يشاء من الصغائر والكبائر) مع التوبة أو بدونها (شرح العقائد النسفية  صـ ۱٤۲)

[۲] إِنَّ اللّٰـهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ (سورة النساء: ٤٠)

إنه لا يظلم أحدا إثبات أنه عدل في حكمه (الأسماء والصفات للبيهقي ۱/ ۱٠۸)

[۳] وللعباد أفعال اختيارية يثابون بها ويعاقبون عليها (العقائد النسفية صـ ۱۱۳)

وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ (سورة البلد: ١٠)

[٤] مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعِزَّةَ فَلِلّٰـهِ الْعِزَّةُ جَمِيْعًا (سورة فاطر: ۱٠)

وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ (سورة آل عمران: ۲٦)

لا يُسْـَٔلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْـَٔلُوْنَ (سورة الأنبياء: ۲۳)

إِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِما يُريدُ (سورة هود: ۱٠۷)

ذلك بأنه على كل شيء قدير وكل شيء إليه فقير وكل أمر عليه يسير لا يحتاج إلى شيء (العقيدة الطحاوية صـ ۲٦)

[۵] اللَّـهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ (سورة الرعد: ۲٦)

خالق بلا حاجة رازق لهم بلا مؤنة (العقيدة الطحاوية صـ ۲۵)

[٦] فلا يكون فى الدنيا ولا فى الأخرى صغير أو كبير قليل أو كثير خير أو شر نفع أو ضر حلو أو مر إيمان أو كفر عرفان أو نكر فوز أو خسران زيادة أو نقصان طاعة أو عصيان إلا بإرادته ووفق حكمته وطبق تقديره وقضائه فى خليقته (شرح الفقه الأكبر للقاري صـ ۱۹)

اِنَّكَ أَنْتَ العَلِيْمُ الحَكِيْمُ (سورة البقرة: ۳۲)

 [۷] كل شيء يجري بقدرته ومشيئته ومشيئته تنفذ لا مشيئة للعباد إلا ما شاء لهم فما شاء لهم كان وما لم يشأ لم يكن (العقيدة الطحاوية صـ ۲٦)

قُلْ لَّنْ يُّصِيْبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰـهُ لَنَا هُوَ مَوْلٰنَا ۚ  وَعَلَى اللّٰـهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤمِنُوْنَ (سورة التوبة: ۵۱)

[۸] وما هو الأصلح للعبد فليس ذلك بواجب على الله تعالى (شرح العقائد النسفية صـ ۱۲۷)

  إنه لايجب على الله شيء من رعاية الأصلح للعباد وغيرها ( شرح الفقه الاكبر للقاري صـ ۱۲۷)

[۹] لَا يُكَلِّفُ اللّٰـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا (سورة البقرة: ۲۸٦)

لا يكلف العبد بما ليس في وسعه (العقائد النسفية صـ۱۲٠)

[۱۰] فالله تعالى عالم بجميع الموجودات لا يعزب عن علمه مثقال ذرة فى العلويات والسفليات وأنه تعالى يعلم الجهر والسر وما يكون أخفى منه من المغيبات بل أحاط بكل شيء علما من الجزئيات والكليات والموجودات والمعدومات والممكنات والمستحيلات (شرح الفقه الأكبر للقاري صـ ۱٦)

Check Also

قیامت کے دن سے متعلق عقائد

(۱) قیامت جمعہ کے دن واقع ہوگی۔ قیامت کا دن اِس دنیا کا آخری دن ہوگا۔ اس دن میں اللہ تبارک و تعالیٰ پوری کائنات کو تباہ و برباد کر دیں گے۔ قیامت کا علم صرف اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا ہے کب اس دنیا کا خامہ ہوگا اور کب قیامت آئےگی...