اذان اور اقامت کی سنتیں اور آداب- ۱۱

اذان دینے کے وقت مندرجہ ذیل سنتوں اور آداب کا لحاظ رکھا جائے:

(۱) اذان کے الفاظ کو مت بگاڑو اور نہ ہی ایسے ترنّم اور سُر کے ساتھ اذان دو کہ اذان کے الفاظ بگڑ جائیں۔ [۱]

عن يحيى البكاء قال: قال رجل لابن عمر: إني لأحبك في الله فقال ابن عمر: لكني أبغضك في الله قال: ولم قال: إنك تتغنى في أذانك وتأخذ عليه أجرا (مجمع الزوائد رقم ١٩٠٩)[۲]

حضرت یحیٰ بکاّء رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا : بے شک میں اللہ کے لیے آپ سے محبت کرتا ہوں۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا : لیکن میں تمہیں اللہ کے واسطے نا پسند کرتا ہوں۔ اس شخص نے پوچھا : کیوں؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا : تم گا کر (موسیقی کے سُر کے ساتھ )اذان دیتے ہو اور اذان دینے کی اجرت وصول کرتے ہو۔

(۲)  اذان اور اقامت کے درمیان دعا کرنا ؛ اس لیے کہ یہ دعا کی قبولیت کا وقت ہے۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الدعاء لا يرد بين الأذان والإقامة (سنن الترمذي رقم ٢١٢)[۳]

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : “اذان اور اقامت کے درمیان دعا رد نہیں کی جاتی ہے۔”

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?cat=379


[۱] ( ولا لحن فيه ) أي تغني بغير كلماته فإنه لا يحل فعله وسماعه كالتغني بالقرآن وبلا تغيير حسن

قال الشامي : قوله ( بغير كلماته ) أي بزيادة حركة أو حرف أو مد أو غيرها في الأوائل والأواخر قوله ( وبلا تغيير حسن ) أي والتغني بلا تغيير حسن فإن تحسين الصوت مطلوب ولا تلازم بينهما بحر وفتح (رد المحتار ۱/۳۸۷)

وأما بيان سنن الأذان فسنن الأذان في الصلاة نوعان: نوع يرجع إلى نفس الأذان، ونوع يرجع إلى صفات المؤذن.

(أما) الذي يرجع إلى نفس الأذان فأنواع … (ومنها) ترك التلحين في الأذان، لما روي أن رجلا جاء إلى ابن عمر – رضي الله عنهما – فقال: إني أحبك في الله تعالى فقال ابن عمر: إني أبغضك في الله تعالى فقال: لم قال: لأنه بلغني أنك تغني في أذانك، يعني التلحين … (بدائع الصنائع ۱/٦٤۲-٦٤٤)

[۲] رواه الطبراني في الكبير وفيه يحيى البكاء ضعفه أحمد وأبو زرعة وأبو حاتم وأبو داود ووثقه يحيى بن سعيد القطان وقال محمد بن سعد: كان ثقة إن شاء الله

[۳] قال أبو عيسى: حديث أنس حديث حسن

Check Also

مسجد کی سنتیں اور آداب – ۹

حضرت عمر و بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجدیں زمین پر اللہ تعالیٰ کے مکانات ہیں اور میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“۔۔۔