ماہِ رمضان کے آداب اور سنتیں-۳

(۱) بزرگانِ دین کی صحبت میں وقت گزاریئے؛ تاکہ آپ رمضان المبارک کی برکات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کر سکیں۔

(۲) سحری کھانے میں بے پناہ برکتیں ہیں؛ لہذا روزہ شروع کرنے سے پہلے سحری کے لیے ضرور جاگئے۔

عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم السحور كله بركة فلا تدعوه ولو أن يجرع أحدكم جرعة من ماء فإن الله عز و جل وملائكته يصلون على المتسحرين رواه أحمد وإسناده قوي  (الترغيب و الترهيب رقم ۱٦۲۳)

حضرت ابو سعید خدری رضی االلہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سحری کھانے میں برکت ہے۔ اس لیے اسے ہرگز نہ چھوڑئیے اگر چہ پانی کا ایک گھونٹ کیوں نہ ہو، کیوں کہ اللہ تعالیٰ سحری کھانے والوں پر  اپنی خاص رحمت نازل فرماتے ہیں اور فرشتے ان کے لیے خیر کی دعا کرتے ہیں۔ (ترغیب ترہیب )

وعن عمرو بن العاص رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم  فصل ما بين صيامنا وصيام أهل الكتاب أكلة السحر. (مسلم رقم ۱٠۹٦)

حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزوں کے درمیان فرق کرنے والی چیز سحری کا کھانا ہے۔”(مسلم)

(۳) رات کے آخری حصہ میں سحری کرنا مستحب ہے(یعنی صبح صادق سے کچھ وقت پہلے)۔

عن أنس بن مالك رضي الله عنه أن نبي الله صلى الله عليه وسلم وزيد بن ثابت تسحرا فلما فرغا من سحورهما قام نبي الله صلى الله عليه وسلم إلى الصلاة فصلى قلنا لأنس كم كان بين فراغهما من سحورهما ودخولهما في الصلاة قال قدر ما يقرأ الرجل خمسين آية (بخاري رقم ۵۷٦)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے سحری کھائی اور جب دونوں سحری سے فارغ ہو گئے، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ فجر کے لیے کھڑے ہو گئے۔ ہم نے پوچھا(یعنی حضرت انس رضی اللہ عنہ کے شاگردوں نے ان سے پوچھا کہ) سحری کھانے اور نمازِ فجر کے درمیان کتنا وقفہ تھا؟ انہوں نے جواب دیا: پچاس آیتوں کی تلاوت کے بقدر۔

(۴) غروب آفتاب کے بعد افطار جلدی کرے۔

عن سهل رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر. قال أبو عيسى حديث سهل بن سعد حديث حسن صحيح  (ترمذي رقم ٦۹۹)

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تک لوگ افطار میں جلدی  کریں وہ ہمیشہ بھلائی میں رہیں گے۔ (ترمذی)

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم  قال الله تعالى أحب عبادي إلي أعجلهم فطرا. (ترمذي رقم ۷٠٠)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میرے بندوں میں سے مجھے وہ بندے سب سے زیادہ محبوب ہیں جو افطار میں جلدی کریں۔ (ترمذی)

(۵) کھجور اور پانی سے افطار کرنا بہتر ہے۔

عن سلمان بن عامر قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم  إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر فإنه بركة فإن لم يجد تمرا فالماء فإنه طهور (ترمذي رقم ٦۵۸)

حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی روزہ سے ہو، تو وہ کھجور سے افطار کرے، کیوں کہ اس میں برکت ہے۔ اور اگر کھجور نہ ملے، تو پانی سے افطار کرے؛ کیونکہ یہ ایک پاکیزہ چیز ہے۔

عن أنس قال : كان النبي صلى الله عليه وسلم يفطر قبل أن يصلي على رطبات فإن لم تكن فتميرات فإن لم تكن تميرات حسى حسوات من ماء . (ترمذي رقم ٦۹٦)

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازِ مغرب سے قبل چند تر کھجوروں سے افطار فرماتے تھے۔ اگر ترکھجوریں دستیاب نہ ہوتیں، تو خشک کھجوروں سے افطار فرماتے تھے اور اگر خشک کھجوریں بھی دستیاب نہ ہوتیں، تو چند گھونٹ پانی نوش فرمالیتے تھے۔ (ترمذی)

(۶) افطار کے بعد مندرجہ ذیل دعا پڑھیے:

اَللّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَ عَلى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ فَتَقَبَّلْ مِنِّيْ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ العَلِيم

اے اللہ ! میں نے آپ ہی کے لیے روزہ رکھا اور آپ ہی کی روزی سے افطار کیا۔ آپ میرا روزہ قبول فرمائیے۔ بے شک آپ زیادہ سننے والے اور جاننے والے ہیں۔

ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ

پیاس بجھ گئی اور رگیں تر ہو گئیں اور اجرو ثواب ثابت(اور حاصل) ہوگیا (ابو داؤد)

عن معاذ بن زهرة قال : إن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا أفطر قال : اللهم لك صمت وعلى رزقك أفطرت. ( أبو داود رقم ۲۳٦٠)

حضرت معاذ بن زہرہ  رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب افطار کرتے تھے، تو یہ دعا پڑھتے تھے :

اَللّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَ عَلى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ

عن ابن عباس رضي الله عنهما قال كان النبي صلى الله عليه و سلم إذا أفطر قال : لك صمت وعلى رزقك أفطرت فتقبل مني إنك أنت السميع العليم رواه الطبراني في الكبير وفيه عبد الملك بن هارون وهو ضعيف (مجمع الزوائد رقم ٤۸۹۳)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  افطار کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے :

اَللّهُمَّ لَكَ صُمْتُ وَ عَلى رِزْقِكَ أَفْطَرْتُ فَتَقَبَّلْ مِنِّيْ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ العَلِيم

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال : كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا أفطر قال : ذهب الظمأ وابتلت العروق وثبت الأجر إن شاء الله  ( أبو داود رقم ۲۳۵۹)

حضرت  عبداللہ  بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم افطار کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے :

ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَّتِ الْعُرُوقُ وَثَبَتَ الأَجْرُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ

(۷) ماہِ رمضان میں خوب سخاوت کیجئے ۔ماہِ رمضان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت خوب بڑھ جاتی تھی۔

عن ابن عباس قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أجود الناس وكان أجود ما يكون في رمضان حين يلقاه جبريل وكان يلقاه في كل ليلة من رمضان فيدارسه القرآن فلرسول الله صلى الله عليه وسلم أجود بالخير من الريح المرسلة (بخاري رقم ٦)

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں میں سے سب سے زیادہ سخی تھے۔ اور دیگر وقتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مبارک مہینہ میں سب سے زیادہ سخی تھے، جب حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا کرتے تھے۔ اور حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ سے رمضان کی ہر رات میں ملا کرتے تھے اور آپ کے ساتھ قرآن کا دور کرتے تھے۔ (غرض یہ کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مبارک مہینہ میں سخاوت و فیاضی میں رحمت کی تیز ہوا سے بھلائی اور خیر میں بڑھے ہوئے تھے۔

 

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?p=6579


Check Also

مسجد کی سنتیں اور آداب – ۹

حضرت عمر و بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجدیں زمین پر اللہ تعالیٰ کے مکانات ہیں اور میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“۔۔۔