اذان اور اقامت کی سنتیں اور آداب-۵

مؤذن کے فضائل

  • صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم آرزو کرتے تھے کہ وہ خود اذان دیں اور ان کے بچے بھی اذان دیں۔

عن علي رضي الله عنه قال: ندمت أن لا أكون طلبت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فيجعل الحسن والحسين مؤذنين (مجمع الزوائد رقم ۱۸۳٦)[۱]

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اس بات پر ندامت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو مؤذن بنانے کی درخواست نہیں کی۔

عن قيس بن أبي حازم قال: قدمنا على عمر بن الخطاب فسأل: من مؤذنكم فقلنا عبيدنا وموالينا فقال بيده هكذا يقلبها عبيدنا وموالينا: إن ذلكم بكم لنقص شديد لو أطقت الأذان مع الخلافة لأذنت (السنن الكبرى للبيهقي رقم ٢٠٠٢)[۲]

حضرت قیس بن حازم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے(دورانِ گفتگو) آپ نے پوچھا: (تمہارے علاقہ میں) کون اذان دیتا ہے؟ ہم نے جواب دیا: ہم نے اپنے غلاموں کو اذان دینے کے لیے مقرر کیا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے(جیسا کہ عام طور پر تعجب کے موقع پر کیا جاتا ہے) ہمارے جملہ کو دہرایا: ہم نے اپنے غلاموں کو مؤذن بنایا ہے پھر فرمایا: بے شک یہ تمہاری طرف سے بہت بڑی کمی ہے(کہ تم نے ایسے لوگوں کو مؤذن بنایا ہے، جن کے پاس دین کا علم زیادہ نہیں ہے، اذان اتنی بڑی عبادت ہے اور اس کا ثواب اتنا بڑا ہے کہ) اگر میرے لیے خلافت کے امور کو انجام دینے کے ساتھ ساتھ اذان دینا ممکن ہوتا تو میں اذان دیتا(مؤذن بنتا)۔

  عن عمر أنه قال: لو كنت مؤذنا لكمل أمري وما باليت أن لا أنتصب لقيام ليل ولا لصيام نهار سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: اللهم اغفر للمؤذنين ثلاثا قلت: يا رسول الله تركتنا ونحن نجتلد على الأذان بالسيوف فقال: كلا يا عمر إنه سيأتي زمان يتركون الأذان على ضعفائهم تلك لحوم حرمها الله على النار لحوم المؤذنين (كشف الخفاء رقم ٢١١٨)[۳]

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے کہ اگر میں(خلافت کی ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ )مؤذن ہوتا تو میرا کام پورا ہو جاتا(میری خواہش پوری ہو جاتی)پھر مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ میں رات میں نماز (تہجد) کے بیدار نہ ہوں اور دن میں روزہ نہ رکھوں(مؤذن کا ثواب اذان دینے سے اتنا بڑا ہے کہ اگر میں مؤذن ہوتا، تو میں اذان کے علاوہ کوئی بھی نفل عبادت نہ کرتا تو وہ مجھے پرواہ نہیں ہے) کیوںکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: اللهم اغفر للمؤذنين(اے اللہ ! مؤذنوں کی مغفرت فرما) آپ نے یہ تین مرتبہ فرمایا۔ میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! (آپ نے مؤذن کا مقام اتنا بلند کر دیا کہ اب) آپ نے ہمیں اس حال میں چھوڑدیا ہے کہ ہم اذان دینے کے لیے آپس میں تلوار سے مقابلہ کریں گے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمر! ایسا ہرگز نہیں ہے۔ ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ اذان کی ذمہ داری کمزوروں کے کندھوں پر ڈال دیں گے(یعنی ایک زمانہ میں لوگوں میں اذان دینے اور مؤذن بننے کا کوئی جذبہ اور شوق نہیں ہوگا، لہذا وہ یہ ذمہ داری کمزور لوگوں کو دے دیں گے) یہ(مؤذنین) ایسے لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی آگ کو ان کے گوشت پر حرام کر دیا ہے۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لو يعلم الناس ما في النداء والصف الأول ثم لم يجدوا إلا أن يستهموا عليه لاستهموا (صحيح البخاري رقم ٦١٥)

حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “اگر لوگوں کو اذان دینے اور پہلی صف میں نماز ادا کرنے کا ثواب معلوم ہو جائے اور انہیں یہ موقع صرف قرعہ اندازی کے ذریعہ ملے، تو وہ ضرور اس کے لیے (اذان دینے اور پہلی صف میں نماز ادا کرنے کے لیے)قرعہ اندازی کریں گے۔”

 

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?cat=379


 

[۱] رواه الطبراني في الأوسط وفيه الحارث وهو ضعيف

[۲] حدثنا يزيد ووكيع قالا: حدثنا إسماعيل عن شبيل بن عوف قال: قال عمر: من مؤذنوكم قالوا: عبيدنا وموالينا قال: إن ذلك لنقص بكم كبيرا إلا أن وكيعا قال: كثير أو كبير حدثنا يزيد ووكيع عن إسماعيل قال: قال قيس: قال عمر: لو كنت أطيق الأذان مع الخليفى لأذنت (المصنف لابن أبي شيبة رقم ۲۳۵۹، ۲۳٦٠)

[۳] لولا الخليفى لأذنت رواه أبو الشيخ ثم البيهقي عن عمر من قوله ورواه سعيد بن منصور عنه أنه قال: لو أطيق مع الخليفى لأذنت ولأبي الشيخ ثم الديلمي عنه أنه قال: لو كنت مؤذنا لكمل أمري وما باليت أن لا أنتصب لقيام ليل ولا لصيام نهار سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: اللهم اغفر للمؤذنين ثلاثا قلت: يا رسول الله تركتنا ونحن نجتلد على الأذان بالسيوف فقال: كلا يا عمر إنه سيأتي زمان يتركون الأذان على ضعفائهم تلك لحوم حرمها الله على النار لحوم المؤذنين والخليفى بكسر المعجمة واللام المشددة والقصر الخلافة وهو وأمثاله من الأبنية الدليلى مصدر يدل على الكثرة يعني هنا: لولا كثرة الاشتغال بأمر الخلافة وضبط أحوالها لأذنت (كشف الخفاء رقم ۲۱۱۸)

Check Also

مسجد کی سنتیں اور آداب – ۹

حضرت عمر و بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجدیں زمین پر اللہ تعالیٰ کے مکانات ہیں اور میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“۔۔۔