اذان اور اقامت کی سنتیں اور آداب-۱

اذان کا  آغاز اورمشروعیت

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہونچے، تو آپ نے وہاں مسجد تعمیر کی۔ مسجد کی تعمیر کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے لوگوں کو نماز کے لیے مسجد میں بلانے کے طریقہ کے سلسلہ میں مشورہ کیا ؛ اس لیے کہ نبیٔ کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی دلی خواہش تھی کہ تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم مسجد میں ایک ساتھ با جماعت نماز ادا کر یں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پسند نہیں تھا کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم مختلف اوقات میں مسجد میں نماز ادا کریں اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہرگز پسند نہیں تھا کہ لوگ اپنے گھروں میں یا کسی اور جگہ میں نماز ادا کریں۔

صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے لوگوں کو جمع کرنے کی مختلف تجویزیں پیش کیں۔ ایک تجویز یہ تھی کہ آگ روشن کی جائے یا جھنڈا لہرایا جائے، جس کودیکھ کر لوگ خود بخود سمجھ جائیں گے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے اور وہ نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد میں حاضر ہو جائیں گے۔

دوسری تجویز یہ تھی کہ لوگوں کو نماز کے وقت کی اطلاع دینے کے لیے صور پھونکا جائے یا ناقوس بجایا جائے(یعنی دو لکڑیوں کو ایک دوسرے پر مارا جائے)۔ یہ سب وہ طریقے تھے، جو اس وقت کے یہودیوں، نصرانیوں اور کافروں کے درمیان لوگوں کو اپنے عبادت خانوں میں بلانے کے لیے رائج تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ طریقے پسند نہیں آئے۔کیونکہ ان طریقوں کے اختیار کرنے میں کفار کی مشابہت لازم آتی اور نماز کے اوقات میں خلجان پیدا ہو سکتا تھا کیونکہ کفار اپنی عبادت خانوں کی طرف لوگوں کو بلانے کے لیے انھیں طریقوں کو اپناتے تھے۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہرگز گوارا نہیں تھا کہ میری امت، اپنے دینی یا دنیوی امور میں یہودیوں، نصرانیوں یا کفار کی نقل کریں اور ان کے طریقوں کو اپنائیں۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اس مجلس میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ مجلس برخاست ہونے سے قبل حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللی علیہ وسلم کے خدمت میں یہ رائے پیش کی کہ جب تک فیصلہ نہ ہو جائے کسی صحابی کو اس خدمت پر مامور کر دیا جائے کہ نماز کے اوقات وہ محلوں میں جاکر لوگوں کو نماز کے لیے بلائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ رائے پسند آئی۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ذمہ داری حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے سپرد کی۔ جب نماز کا وقت ہوتا، توحضرت بلال رضی اللہ عنہ مدینہ منوّرہ میں گشت لگاتے اور لوگوں کو اطلاع دیتے کہ جماعت کھڑی ہونے والی ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فکر کو دیکھ کر صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بھی اس سلسلہ میں بہت متفکر ہو گئے۔ کچھ ہی دنوں کے بعد اللہ رب العزت کی طرف سے حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو رات میں ایک خواب نظر آیا۔ خواب میں انہوں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ سبز لباس میں ملبوس انسانی شکل میں ان کے سامنے “ناقوس” لیے کھڑا ہے۔ انہوں نے فرشتہ سے سوال کیا: اللہ کے بندے! کیا تم ناقوس فروخت کر رہے ہو؟ فرشتہ نے کہا: تم اس سے کیا کرنا چاہتے ہو؟ حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں اس کو بجا کر لوگوں کو نماز کے لیے بلاؤں گا۔ تو فرشتہ نے کہا: کیا میں تمہیں لوگوں کو نماز کے لیے بلانے کا ایسا طریقہ نہ بتاؤں جو ناقوس بجانے سے بہتر ہے؟ حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کونسا طریقہ بہتر ہے؟ فرشتہ نے جواب دیا: تم اذان دیا کرو۔ اس کے بعد اس فرشتہ نے انہیں اذان کے کلمات سکھلائے۔

جب حضرت عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ صبح کو بیدار ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پورا خواب بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب سن کر فرمایا: بے شک یہ ایک سچا خواب ہے۔ آپ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس کھڑے ہو جاؤ اور انہیں اذان کے کلمات سنائے، جو تمہیں خواب میں بتائے گئے ہیں۔ تا کہ وہ ان کلمات میں اذان دے سکے، اس لیے کہ ان کی آواز تمہاری آواز سے زیادہ بلند ہے؛ لہذا ان کی آواز دور تک پہونچےگی۔

جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضر ت بلال رضی اللہ عنہ کی اذان کی آواز سنی، تو اپنی چادر لے کر کے دوڑے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مؤدبانہ عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس ذات کی قسم جس نے آپ کو تبلیغِ اسلام کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے، میں نے بھی اسی طرح کا خواب دیکھا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خوش ہوئے اور فرمایا: جب ایک سے زیادہ آدمی نے اس طرح کا خواب دیکھا تو یہ بات  زیادہ پختہ اور محقق ہوگئی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سچا خواب ہے۔

روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ دس سے زائد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے اسی طرح کا خواب دیکھا تھا اور خواب ہی میں ان کو اذان کے کلمات سکھائے گئے تھے۔ ان صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی شامل ہیں۔[۱]

 

 

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?cat=379


 

[۱] مرقاة ۲/۳۳۱ ، الدر المنضود ۲/۸٦ ، درس ترمذي ۱/٤۵۱ ، السعاية ۲/٤

Check Also

مسجد کی سنتیں اور آداب – ۹

حضرت عمر و بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجدیں زمین پر اللہ تعالیٰ کے مکانات ہیں اور میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“۔۔۔