مسواک کی سنتیں اور آداب-٦

مسواک کے فضائل

عن عائشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم فضل الصلاة التي يستاك لها على الصلاة التي لا يستاك لها سبعين ضعفا (المستدرك للحاكم رقم ۵۱۵)[۲۰]

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “جو نماز مسواک کر کے ادا کی جائے اس کی فضیلت اس نماز سے ستر(۷۰) گنا زیادہ ہے جو مسواک کے بغیر ادا کی جائے”۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم السواك مطهرة للفم مرضاة للرب (صحيح البخاري تعليقا ۱/۲۵۹)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نقل کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “مسواک منھ کی صفائی اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی کا ذریعہ ہے”۔

عن أبي أيوب رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أربع من سنن المرسلين الحياء والتعطر والسواك والنكاح (سنن الترمذي رقم ۱٠۸٠)

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “چار چیزیں انبیاء کرام کی سنتوں میں سے ہیں : (۱) حیا (زندگی کے تمام شعبوں میں حیا اختیار کرنا)، (۲) خوشبو استعمال کرنا، (۳) مسواک کرنا، (۴) نکاح کرنا۔

عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: عليكم بالسواك فإنه مطهرة للفم مرضاة للرب مفرحة للملائكة يزيد في الحسنات وهو من السنة ويجلو البصر ويذهب الحفر ويشد اللثة ويذهب البلغم ويطيب الفم ورواه غيره وزاد فيه: ويصلح المعدة (شعب الإيمان رقم ۲۵۲۱)[۲۱]

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “مسواک کیا کرو؛ اس لیے کہ یہ منھ کی صفائی، اللہ تعالیٰ کی رضامندی اور فرشتوں کو خوش کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ (مسواک) نیکیوں میں اضافہ کرتی ہے۔ اس کا استعمال سنت ہے۔ یہ نگاہ تیز کرتی ہے، دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماریوں کو دور کرتی ہے۔ اس سے مسوڑھے مضبوط ہوتے ہیں۔ بلغم دور ہوتا ہے اور منھ صاف ہوتا ہے(دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ) مسواک سے معدہ درست ہوتا ہے، ہاضمہ کی قوت بڑھتی ہے۔

 

 

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?cat=217


 

[۲۰] هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه

قال الذهبي في التلخيص : على شرط مسلم

[۲۱] قال البيهقي : تفرد به الخليل بن مرة وليس بالقوي في الحديث

قال ابن الملقن في البدر المنير (۲/۲۳) : هو كما قال فقد ضعفه يحيى بن معين والنسائي وقال البخاري منكر الحديث وقال ابن حبان منكر الحديث عن المشاهير كثير الرواية عن المجاهيل وقال أبو زرعة شيخ صالح وقال أبو حاتم ليس بالقوي وقال ابن عدي ليس بمتروك

قال السيوطي رحمه الله كتصانيف البيهقي فقد التزم أن لا يخرج فيها حديثا يعلمه موضوعا . انتهى. (تدريب الراوي ۱/۲۳۷ )

وقد اعتمد السيوطي وابن عراق رحمهما الله على قول البيهقي هذا. (اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة ۱/۱۲)

قال الشيخ محمد عوامة:  والشرط الرابع: أن يكون لهذا الحديث الضعيف أصل يندرج تحته، وهو أمر ملاحظ جدا  في واقع علمائنا رحمهم الله، فهم -كما نبهت إليه-يروون هذا الحديث الضعيف مع جملة أحاديث تشهد له، إما صحيحة بذاتها فتعضد هذا الضعيف، وإما ضعيفة أيضاً فتتعاضد مع بعضها،  وقد لاحظتُ هذا الامر كثيرًا وأنا أستقرئ هذا الاستقراء من الكتب التي نقلت عنها،  فوجدته والحمد لله متوفراً مستوفى … (حكم العمل بالحديث الضعيف صـ ۱٠٤-۱٠٦)

Check Also

مسجد کی سنتیں اور آداب – ۹

حضرت عمر و بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجدیں زمین پر اللہ تعالیٰ کے مکانات ہیں اور میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“۔۔۔