مسواک کی سنتیں اور آداب-۵

(۶) حالتِ نزع میں (موت کے آثار کے وقت)۔

عن عائشة رضي الله عنها قالت دخل عبد الرحمن بن أبي بكر ومعه سواك يستن به فنظر إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت له أعطني هذا السواك يا عبد الرحمن فأعطانيه فقصمته (وفي رواية وطيبته) ثم مضغته فأعطيته رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستن به وهو مستند إلى صدري (صحبح البخاري رقم ٨٩٠)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ میرا بھائی حضرت عبد الرحمنٰ رضی اللہ عنہ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب) کمرے میں داخل ہوئے، جبکہ ان کے پاس ایک مسواک تھی جس سے وہ مسواک کرتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ اس مسواک پر پڑی (لیکن بوجہ ضعف و نقاہت مسواک طلب نہ کر سکے۔ میں سمجھ گئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش ہے کہ اس وقت مسواک استعمال کریں) چناں چہ میں نے اپنے بھائی سے کہا: مجھے یہ مسواک دو، میں نے وہ مسواک لیا، اس کے اوپر والے حصہ کو توڑ کر الگ کیا پھر اس کو چبا کر نرم کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش کیا، آپ نے اس سے مسواک کیا دراں حالیکہ آپ میرے سینہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔

(۷) کوئی شخص پہلے سے باوضو تھا اور نماز کا وقت ہو گیا، تو اس کے لیے مستحب ہے کہ منھ کی بدبو وغیرہ دور کرنے کے لیے نماز سے پہلے مسواک کرلے۔ اسی طرح کسی مجلس وغیرہ میں شرکت سے قبل مسواک کرنا مستحب ہے۔ [۱۸]

(۸)  اگر کوئی بیماری کی وجہ سے یا پانی نہ ہونے کی وجہ سے یا پانی کی کمی کی وجہ سے تیمم کرے، تو تیمم میں مسواک کے ساتھ منھ صاف کرے اور پھر نماز پڑھے۔

(۹)  مسواک استعمال کرنے کے بعد اس کو  کھڑی کر کے سیدھی رکھو۔ [۱۹]

 

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?cat=217


 

[۱۸] قال في إمداد الفتاح: وليس السواك من خصائص الوضوء، فإنه يستحب في حالات منها: تغير الفم، والقيام من النوم وإلى الصلاة، ودخول البيت، والاجتماع بالناس، وقراءة القرآن؛ لقول أبي حنيفة: إن السواك من سنن الدين فتستوي فيه الأحوال كلها. اهـ. وفي القهستاني: ولا يختص بالوضوء كما قيل، بل سنة على حدة على ما في ظاهر الرواية. وفي حاشية الهداية أنه مستحب في جميع الأوقات، ويؤكد استحبابه عند قصد التوضؤ فيسن أو يستحب عند كل صلاة اهـ وممن صرح باستحبابه عند صلاة أيضا الحلبي في شرح المنية الصغير، وفي هدية ابن عماد أيضا، وفي التتارخانية عن التتمة: ويستحب السواك عندنا عند كل صلاة ووضوء وكل ما يغير الفم وعند اليقظة. اهـ. فاغتنم هذا التحرير الفريد (شامي١/١١٤)

«صلاة بسواك أفضل من سبعين صلاة بغير سواك» أي أنها تحصل بالإتيان به عند الوضوء. وعند الشافعي لا تحصل إلا بالإتيان به عند الصلاة. فعندنا كل صلاة صلاها بذلك الوضوء لها هذه الفضيلة خلافا له، ولا يلزم من هذا نفي استحبابه عندنا لكل صلاة أيضا حتى يحصل التنافي. وكيف لا يستحب للصلاة التي هي مناجاة الرب تعالى مع أنه يستحب للاجتماع بالناس. (شامي ۱/۱۱۳)

[۱۹] (و) ندب إمساكه (بيمناه) وكونه لينا، مستويا بلا عقد، في غلظ الخنصر وطول شبر. ويستاك عرضا لا طولا، ولا مضطجعا؛ فإنه يورث كبر الطحال، ولا يقبضه؛ فإنه يورث الباسور، ولا يمصه؛ فإنه يورث العمى، ثم يغسله، وإلا فيستاك الشيطان به، ولا يزاد على الشبر، وإلا فالشيطان يركب عليه، ولا يضعه بل ينصبه، وإلا فخطر الجنون قهستاني. ويكره بمؤذ، ويحرم بذي سم (الدر المختار ۱/۱۱۵)

Check Also

مسجد کی سنتیں اور آداب – ۹

حضرت عمر و بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجدیں زمین پر اللہ تعالیٰ کے مکانات ہیں اور میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“۔۔۔