مسواک کی سنتیں اور آداب-٤

(۴) دانتوں کے رنگ کے بدل جانے یا منھ سے بدبو خارج ہونے کے وقت۔[۱٦]

عن جعفر بن أبي طالب رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: ما لي أراكم تدخلون علي قلحا استاكوا ولولا أن أشق على أمتي لأمرتهم أن يستاكوا عند كل صلاة (كتاب الآثار رقم ٤١)

حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں سے کہا: “کیا بات ہے کہ تم لوگ میرے پاس اس حال میں آتے ہو کہ تمہارے دانتوں کے رنگ زرد ہوتے ہیں؟ مسواک کیا کرو۔ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم  نے مزید فرمایا) “اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ضرور انھیں حکم دیتا(اور ان پر واجب کرتا) کہ وہ ہر نماز کے وقت مسواک کریں(لیکن اب ہر نماز کے وقت مسواک کرنا سنت ہے واجب نہیں ہے)۔”

عن عبد الله بن بشر المازني رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم قصوا أظافيركم وادفنوا قلاماتكم ونقوا براجمكم ونظفوا لثاتكم من الطعام وتسننوا ولا تدخلوا علي قخرا بخرا (نوادر الأصول تحت الأصل التاسع والعشرين في باب النظافة)[۱۷]

حضرت عبد اللہ بن بشر مازنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “ناخن تراشو، ناخن کا تراشہ گاڑ دو، بدن کے جوڑوں کو(جہاں میل جمع ہوتا ہے) اچھی طرح صاف کرو، مسوڑھوں سے کھانے کے ذرّات صاف کرنا، مسواک کرو اور میرے پاس اس حال میں مت آؤ کہ تمہارے دانت زرد ہوں اور تمہارے منھ سے بدبو آرہی ہو۔ “

(۵) کھانے سے پہلے اور کھانے کے بعد۔

عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال – إن كان قاله – لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم بالسواك مع الوضوء وقال أبو هريرة لقد كنت أستن قبل أن أنام وبعد ما أستيقظ وقبل ما آكل وبعد ما آكل حين سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ما قال (مسند أحمد ٩١٩٤)

حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا (بے شک آپ نے فرمایا تھا): “”اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں ضرور انھیں حکم دیتا(اور ان پر واجب کرتا) کہ وہ ہر وضو کے وقت مسواک کریں(لیکن اب ہر وضو کے وقت مسواک کرنا سنت ہے واجب نہیں ہے)۔” حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ نے مزید فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسواک کی تائید کی وجہ سے میری عادت ہے کہ میں سونے سے پہلے، نیند سے بیدار ہونے کے بعد کھانےسے پہلے اور کھانے کے بعد مسواک کرتا ہوں۔

 

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?cat=217


 

[۱٦]كما يندب لاصفرار سن وتغير رائحة وقراءة قرآن

[۱۷] قال صاحب نوادر الأصول: وقوله لا تدخلوا علي قخرا بخرا المحفوظ عندي قلحا وقحلا والأقلح الذي اصفرت أسنانه حتى بخرت من باطنها ولا نعرف القخر والبخر إلا الذي نجد له رائحة منكرة يقال رجل أبخر ورجال بخر

 

Check Also

مسجد کی سنتیں اور آداب – ۹

حضرت عمر و بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجدیں زمین پر اللہ تعالیٰ کے مکانات ہیں اور میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“۔۔۔