وضو کے مسائل

سوال : وضو کے فرائض کیا ہیں ؟

جواب : وضو میں مندرجہ ذیل چیزیں فرض ہیں:

۱) ایک بار پورا چہرہ دھونا۔

۲) ایک بار دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا۔

۳) کم از کم چوتھائی سر کا مسح کرنا۔

۴) ایک بار دونوں پیر ٹخنوں سمیت دھونا۔ [۴۵]

سوال : وضو میں چہرہ کے کن حصوں کا دھونا ضروری ہے ؟

جواب : وضو میں پورا چہرہ ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو اور پیشانی سے لے کر ٹھوڑی تک دھونا ضروری ہے۔ [۴۶]

سوال : کیا وضو میں کانوں اور خطوں کے درمیانی حصہ کا دھونا ضروری ہے ؟

جواب : ہاں، ضروری ہے۔ [۴۷]

سوال : اگر کوئی وضو  کے بعد سر کے بال کٹوائے، تو کیا مسح کا اعادہ ضروری ہے؟

جواب : نہیں ، اعادہ ضروری ہے۔ [۴۸]

سوال : کیا وضو کے وقت انگوٹھی، کنگن اور گھڑی نکالنا ضروری ہے؟

جواب : اگر پانی انگوٹھی، کنگن اور گھڑی کے نیچے تک ان کو نکالے بغیر، پہونچ جائے، تو  ان کو نکالنا ضروری نہیں ہے۔ اگر ان کو نکالے بغیر پانی پہونچے تو ان کو نکالنا ضروری ہے۔ [۴۹]

سوال : ڈاڑھی کے خلال کا کیا طریقہ ہے ؟

جواب : ڈاڑھی کے خلال کا طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ کی گیلی انگلیوں کو ٹھوڑی کے نیچے سے ڈاڑھی کے بالوں کے اندر سے گزارا جائے ۔ See 14

سوال : وضو کی سنتیں کیا ہیں ؟

جواب  : وضو کی سنتیں مندرجہ ذیل ہیں:

۱) وضو کی نیت کرنا۔

۲) مسواک کرنا۔

۳) بسم اللہ پڑھنا۔

۴) دونوں ہاتھ گٹوں سمیت دھونا۔

۵) کلیّ کرنا۔

۶) ناک کے اندر پانی ڈالنا۔

۷) ڈاڑھی کا خلال کرنا۔

۸) ہاتھ اور پیر کی انگلیوں کا خلال کرنا۔

۹) ہر عضو کو تین بار دھونا۔

۱۰) پورے سر کا مسح کرنا۔

۱۱) کانوں کا مسح کرنا۔

۱۲) ترتیب سے وضو کرنا۔

۱۳) ہر عضو کو یکے بعد دیگرے بغیر تاخیر کے اس طرح دھونا کہ وضو مکمل ہونے سے پہلے اعضاء خشک نہ ہوں۔ [۵۰]

سوال :- کیا زخموں اور پیر یا ہاتھ کے شگافوں سے وضو کے وقت مرہم وغیرہ ہٹانا ضروری ہے ؟

جواب : – اگر زخموں یا شگافوں پر پانی ڈالنا نقصان دہ ہو یا اس کی وجہ سے زخم وغیرہ مندمل ہونے میں تاخیر ہوگی، تو  مرہم وغیرہ ہٹانا ضروری نہیں ہے۔ عضو پر مسح کرنا کافی ہوگا (صرف گیلا ہاتھ زخم یا پھٹن پر پھیر لیا جائے)۔ [۵۱]

سوال :- اگر  کسی کا  ہاتھ  کہنی سے نیچے کا ٹ دیا گیا ہے، تو کیا وضو میں ہاتھ کا کہنی تک بچا ہوا حصہ دھونا ضروری ہے ؟

جواب :- اس کے لیے ہاتھ  کا بچا ہوا حصہ کہنی سمیت دھونا ضروری ہے۔ [۵۲]

سوال :- کیا سر کا مسح کرنے کے لیے نیا پانی لینا سنت ہے یا ہاتھوں کو دھونے کے بعد ہاتھوں پر بچے ہوئے پانی سے سر کا مسح کرنا درست ہے ؟

  جواب :- سر کا مسح کرنے کے لیے نیا پانی لینا سنت نہیں ہے۔ ہاتھوں کے دھو نے کے بعد ہاتھوں پر بچے ہوئے پانی سے مسح کرنا درست ہے۔ [۵۳]

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?cat=130


 

[٤۵]  أركان الوضوء أربعة وهى فرائضه الأول غسل الوجه…والثاني غسل يديه مع مرفقيه والثالث غسل رجليه مع كعبيه والرابع مسح ربع رأسه (نور الايضاح ص٣٠)

[٤۶]  وهو من مبدأ سطح جبهته الي أسفل دقنه طولا وما بين شحمتي الأذنين عرضا (تنوير الأبصار مع رد المحتار ج١ ص٩٧)

[٤۷] ( فيجب غسل المياقي ) وما يظهر من الشفة عند انضمامها ( وما بين العذار والأذن ) لدخوله في الحد وبه يفتى (الدر المختار ١/٩٧)

[٤۸] ( ولا يعاد الوضوء ) بل ولا بل المحل ( بحلق رأسه ولحيته كما لا يعاد ) الغسل للمحل ولا الوضوء ( بحلق شاربه وحاجبه و قلم ظفره ) وكشط جلده (الدر المختار ١/١٠١)

[٤۹] وفي مجموع النوازل تحريك الخاتم سنة إن كان واسعا وفرض إن كان ضيقا بحيث لم يصل الماء تحته كذا في الخلاصة وهو ظاهر الرواية هكذا في المحيط (الفتاوى الهندية ١/٥)

[۵۰] ( وسننه ) … ( البداية بالنية ) … ( و ) البداية ( بالتسمية ) … ( و ) البداية ( بغسل اليدين ) … ( إلى الرسغين ) … ( والسواك ) … ( وغسل الفم ) أي استيعابه ولذا عبر بالغسل أو للاختصار ( بمياه ) ثلاثة ( والأنف ) ببلوغ الماء المارن ( بمياه ) وهما سنتان مؤكدتان مشتملتان على سنن خمس الترتيب والتثليث وتجديد الماء وفعلهما باليمنى ( والمبالغة فيهما ) بالغرغرة ومجاوزة المارن ( لغير الصائم ) لاحتمال الفساد … ( وتخليل اللحية ) لغير المحرم بعد التثليث ويجعل ظهر كفه إلى عنقه ( و ) تخليل ( الأصابع ) اليدين بالتشبيك والرجلين بخنصر يده اليسرى بادئا بخنصر رجله اليمنى وهذا بعد دخول الماء خلالها فلو منضمة فرض ( وتثليث الغسل ) المستوعب … ( ومسح كل رأسه مرة ) … ( وأذنيه ) معا ولو ( بمائه ) … ( والترتيب ) المذكور في النص … ( والولاء ) (الدر المختار ١/ ١٠٢-١٢٢)

[۵۱] فروع في أعضائه شقاق غسله إن قدر وإلا مسحه وإلا تركه ولو بيده ولا يقدر على الماء تيمم

قال الشامي : قوله ( تيمم ) زاد في الخزائن وصلاته جائزة عنده خلافا لهما ولو كان في رجله فجعل فيه الدواء يكفيه إمرار الماء فوقه ولا يكفيه المسح ولو أمره فسقط إن عن برء يعيده وإلا فلا كما في الصغرى اهـ ابن عبد الرزاق (رد المحتار ١/١٠٢)

[۵۲] ولو قطع من المرفق غسل محل القطع

قال الشامي : قوله ( ولو قطع الخ ) قال في البحر ولو قطعت يده أو رجله فلم يبق من المرفق والكعب شيئ سقط الغسل ولو بقي وجب (رد المحتار ١/١٠٢)

[۵۳] ولو كان في كفه بلل فمسح به أجزأه سواء كان أخذ الماء من الأناء أو غسل ذراعيه وبقي بلل في كفه هو الصحيح (الفتاوى الهندية ١/٧)

عن الربيع أن النبي صلى الله عليه وسلم مسح برأسه من فضل ماء كان في يده (سنن أبي داود رقم ١٣٠)

وقال ابن قدامة في المغني : روي عن علي وابن عمر وأبي أمامة فيمن نسي مسح رأسه إذا وجد بللا في لحيته أجزأه أن يمسح رأسه بذلك البلل انتهى

Check Also

مسجد کی سنتیں اور آداب – ۹

حضرت عمر و بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجدیں زمین پر اللہ تعالیٰ کے مکانات ہیں اور میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“۔۔۔