وضو کی سنتیں اور آداب-۸

۲۲) ہر عضو کو اچھی طرح رگڑنا تاآں کہ اس بات کا یقین ہو جائے کہ پانی ہر عضو کو پہنچ گیا ہے۔ [۳۲]

۲۳) تمام اعضا کو پے در پے، ایک عضو کو دوسرے عضو کے بعد بغیر کسی تاخیر کے دھونا۔ [۳۳]

۲۴) وضو کے دوران دنیوی امور کے متعلق بات چیت نہ کرنا۔ [۳۴]

۲۵) وضو میں اسراف یعنی پانی ضائع نہ کرنا۔ [۳۵]

عن عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر بسعد وهو يتوضأ فقال ما هذا السرف فقال أفي الوضوء إسراف قال نعم وإن كنت على نهر جار (سنن ابن ماجة رقم ٤٢٥)[۳٦]

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس سے گذرے جب کہ وہ وضو کر رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ؟ یہ کیا اسراف ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا: کیا وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ہاں (وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے) اگر چہ تم بہتی نہر کے پاس وضو کر رہے ہو (پھر بھی اس کا خیال رکھنا کہ پانی برباد نہ ہو)۔

۲۶) جس عضو کا وضو میں دھونا فرض ہے، اگر اس کا کوئی حصہ خشک رہ جائے، تو وضو مکمل نہیں ہوگا۔

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أن رجلا توضأ فترك موضع ظفر على قدمه فأبصره النبي صلى الله عليه وسلم فقال ارجع فأحسن وضوءك (صحيح مسلم رقم ٢٤٣)

حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے وضو کیا اور ناخن کے بقدر اپنے پاؤں کا حصہ نہیں دھویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پر نظر پڑی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، اچھی طرح وضو کرو۔

 

Source: http://ihyaauddeen.co.za/?cat=130


 

[۳۲] ( ومن آدابه ) … ( استقبال القبلة ودلك أعضائه ) في المرة الأولى (الدر المختار ١/١٢٤)

[۳۳] الفصل الثاني في سنن الوضوء … ومنها الموالاة وهي التتابع وحده أن لا يجف الماء على العضو قبل أن يغسل ما بعده في زمان معتدل ولا اعتبار بشدة الحر والرياح ولا شدة البرد ويعتبر أيضا استواء حالة المتوضئ كذا في الجوهرة النيرة وإنما يكره التفريق في الوضوء إذا كان بغير عذر أما إذا كان بعذر بأن فرغ ماء الوضوء فيذهب لطلب الماء أو ما أشبه ذلك فلا بأس بالتفريق على الصحيح وهكذا إذا فرق في الغسل والتيمم كذا في السراج الوهاج (الفتاوى الهندية ١/٨)

[۳٤] (ومن آدابه) … (و) عدم (التكلم بكلام الناس) الا لحاجة تفوته (الدر المختار ١/١٢٦)

[۳۵] وفي الأصل من الادب أن لا يسرف في الماء ولا يقتر كذا في الخلاصة وهذا إذا كان ماء نهر أو مملوكا له فإن كان ماء موقوفا على من يتطهر أو يتوضأ حرمت الزيادة والاسراف بلا خلاف كذا في البحر الرائق (الفتاوى الهندية ١/٨)

[۳٦] في الزوائد للبوصيري: إسناده ضعيف . لضعف حيي بن عبد الله وابن لهيعة

Check Also

مسجد کی سنتیں اور آداب – ۹

حضرت عمر و بن میمون رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ ”مسجدیں زمین پر اللہ تعالیٰ کے مکانات ہیں اور میزبان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔“۔۔۔